بیجنگ: چین میں رواں سال کے پہلے نو ماہ کے دوران قدرتی آفات سے براہ راست معاشی نقصانات 199.36 ارب یوآن، یعنی تقریباً 29.9 ارب ڈالر، تک پہنچ گئے۔ ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والی رائٹرز رپورٹ کے مطابق چین کی وزارت ایمرجنسی مینجمنٹ نے بتایا کہ شدید طوفان، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نقصانات کی بڑی وجوہات میں شامل رہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ مالی نقصان گزشتہ سال کی اسی مدت کے 217.65 ارب یوآن کے مقابلے میں تقریباً آٹھ فیصد کم ہے۔ تاہم جنوبی اور جنوب مغربی چین میں آفات کے اثرات زیادہ نمایاں رہے اور متاثرہ آبادی اور اموات کا بڑا حصہ انہی علاقوں میں ریکارڈ کیا گیا۔ موسمی شدت اور جغرافیائی حالات کے باعث ان خطوں کو بارشوں، سیلاب اور زمینی تودے گرنے کے خطرات کا مسلسل سامنا رہا۔

چین دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہونے کے ساتھ وسیع جغرافیائی رقبہ رکھتا ہے، جہاں مختلف علاقوں میں خشک سالی، شدید بارش، سمندری طوفان، سیلاب اور دیگر موسمی آفات بیک وقت مختلف نوعیت کے خطرات پیدا کرتی ہیں۔ ایسے واقعات نہ صرف رہائشی آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرتے ہیں بلکہ زراعت، صنعت، ٹرانسپورٹ اور مقامی کاروباری سرگرمیوں پر بھی مالی بوجھ ڈالتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں چین نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی وارننگ، انخلا کے نظام، سیلابی دفاع اور ہنگامی امداد میں سرمایہ کاری بڑھائی ہے۔ اس کے باوجود بڑے طوفان اور غیر معمولی بارشیں گنجان آباد علاقوں اور پہاڑی خطوں میں بڑے نقصانات کا باعث بن سکتی ہیں۔ رواں سال کے اعداد و شمار میں مجموعی مالی نقصان کی سالانہ بنیاد پر کمی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ نقصان گزشتہ سال سے کم رہا، مگر تقریباً 30 ارب ڈالر کی سطح اب بھی آفات کے بڑے معاشی اثر کو ظاہر کرتی ہے۔

وزارت کے اعداد و شمار موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کی اہمیت بھی واضح کرتے ہیں۔ انفراسٹرکچر کو زیادہ لچکدار بنانا، شہری نکاسی آب بہتر کرنا، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈ کے خطرات کی نگرانی اور ساحلی علاقوں میں طوفانوں کے لیے تیاری مستقبل کے نقصانات محدود کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔