چین پانی کی بڑھتی قلت اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے دباؤ کے جواب میں ڈی سیلینیشن، فلٹریشن اور پانی کی ری سائیکلنگ جیسی ٹیکنالوجیز میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور ساتھ ہی انہیں عالمی منڈی میں برآمدی صنعت کے طور پر آگے بڑھا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق چین خود کو پانی کی ٹیکنالوجی کے ایک اہم عالمی سپلائر کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بالخصوص ان خطوں میں جہاں قدرتی میٹھے پانی کے ذخائر محدود ہیں۔
چین کے شمالی علاقوں میں زیر زمین پانی کے زیادہ استعمال اور گلیشیئرز و بارش کے نظام پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نے پانی کے تحفظ کو قومی پالیسی کا اہم حصہ بنا دیا ہے۔ اس پس منظر میں سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے، صنعتی اور شہری گندے پانی کو دوبارہ استعمال کرنے اور جدید جھلیوں کے ذریعے فلٹریشن کی صلاحیت بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں چین نے دو ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے پانی صاف کرنے والے آلات برآمد کیے۔ بیلٹ اینڈ روڈ سے منسلک منصوبوں سمیت افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے پانی کی قلت والے ممالک چینی کمپنیوں کے لیے اہم منڈیاں بن رہے ہیں۔ وونٹرون ٹیکنالوجی اور پاور چائنا جیسی کمپنیاں بڑے منصوبوں اور فلٹریشن ٹیکنالوجی میں کردار ادا کر رہی ہیں۔
چین کے اندر پانی سے متعلق انفراسٹرکچر اور تحفظ پر سالانہ سرکاری اخراجات 170 ارب ڈالر سے زیادہ بتائے گئے ہیں، جو اس شعبے کو دی جانے والی اسٹریٹجک اہمیت ظاہر کرتے ہیں۔ ملک میں ڈی سیلینیشن کی صلاحیت بھی مسلسل بڑھی ہے اور 2025 تک 160 سے زیادہ منصوبے کام کر رہے تھے۔ تاہم سمندری پانی کو میٹھا بنانے کی لاگت، توانائی کی ضرورت، نمکین فضلے کے ماحولیاتی اثرات اور طویل پائپ لائن انفراسٹرکچر اب بھی اہم چیلنج ہیں۔
سعودی عرب کی اکوا پاور سمیت غیر ملکی شراکت دار بھی چین کے پانی اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ چین کے لیے موقع یہ ہے کہ وہ سولر اور ونڈ پاور کی طرح بڑے پیمانے پر پیداوار اور انجینئرنگ صلاحیت کے ذریعے پانی کی ٹیکنالوجی کی لاگت کم کرے۔ تاہم مختلف ممالک میں پانی کا معیار، مقامی قواعد اور منصوبوں کی مالی پائیداری ایک جیسی نہیں، اس لیے ایک ہی حل ہر جگہ قابل اطلاق نہیں ہوگا۔
عالمی سطح پر آبادی، شہری توسیع، صنعتی طلب اور موسمیاتی تبدیلی پانی کے دباؤ میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں چین کی ’مینوفیکچرڈ واٹر‘ حکمت عملی ایک ابھرتی ہوئی صنعتی اور ماحولیاتی سمت ہے، مگر اس کی طویل مدتی کامیابی کا انحصار لاگت، توانائی کے استعمال، ماحولیاتی اثرات اور میزبان ممالک میں منصوبوں کی عملی کارکردگی پر ہوگا۔

