اسلام آباد: وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شذرہ منصب علی خان کھرل نے کہا ہے کہ پاکستان کو 2035 تک اپنے موسمیاتی وعدوں اور اہداف پر عمل درآمد کے لیے اندازاً 565 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی محدود مالی گنجائش اور بین الاقوامی موسمیاتی مالی معاونت میں موجود خلا ان اہداف کے حصول کے لیے بڑے چیلنج ہیں۔
وزیر مملکت نے اسلام آباد میں موسمیاتی پالیسی اور مالی وسائل سے متعلق گفتگو کے دوران پاکستان کی ضروریات کو اس تناظر میں بیان کیا کہ ملک کو بیک وقت اخراج میں کمی، موسمیاتی اثرات سے مطابقت، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور قدرتی آفات کے بڑھتے خطرات سے نمٹنا ہے۔ ان کے مطابق مطلوبہ سرمایہ کاری کا حجم صرف سرکاری بجٹ سے پورا کرنا ممکن نہیں اور اس کے لیے بیرونی مالی معاونت، نجی سرمایہ اور مؤثر مالیاتی ذرائع کی ضرورت ہوگی۔
پاکستان حالیہ برسوں میں سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، گلیشیئر پگھلنے اور شہری سیلاب جیسے خطرات سے بار بار متاثر ہوا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات زراعت، پانی، توانائی، صحت اور بنیادی ڈھانچے پر براہ راست دباؤ بڑھاتے ہیں، جس سے ترقیاتی اخراجات اور ہنگامی بحالی کی ضروریات بھی بڑھتی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ کم عالمی اخراج کے باوجود پاکستان موسمیاتی نقصانات کے لحاظ سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔
565 ارب ڈالر کا تخمینہ 2035 تک کے وسیع موسمیاتی اہداف سے متعلق ہے اور اسے کسی ایک سال کے بجٹ یا کسی ایک منصوبے کی لاگت نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ رقم مختلف شعبوں میں طویل مدتی سرمایہ کاری کی مجموعی ضرورت کی نشاندہی کرتی ہے۔ وزیر مملکت نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے وعدہ شدہ عالمی کلائمیٹ فنانس تک بروقت اور قابل رسائی رسائی ضروری ہے۔
پاکستان بین الاقوامی فورمز پر موسمیاتی انصاف، گرانٹس، رعایتی فنانسنگ اور نقصان و تلافی کے وسائل میں اضافے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ حکومت کے لیے اگلا اہم مرحلہ ان بڑے تخمینوں کو ترجیحی منصوبوں، قابل پیمائش نتائج اور ایسے مالیاتی ڈھانچوں میں تبدیل کرنا ہوگا جن کے ذریعے سرکاری، نجی اور بین الاقوامی سرمایہ اکٹھا کیا جا سکے۔ دستیاب بیان میں 565 ارب ڈالر کی ضرورت کا شعبہ وار مکمل بریک ڈاؤن نہیں دیا گیا، اس لیے ہر شعبے کی حتمی مالی ضرورت متعلقہ منصوبہ بندی اور سرکاری دستاویزات سے واضح ہوگی۔

