اقوام متحدہ نے موجودہ ایل نینو موسمیاتی رجحان کی غیر معمولی شدت کے پیش نظر ممالک سے فوری اور مربوط پیشگی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈان میں شائع اے ایف پی رپورٹ کے مطابق عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ سیلیستے ساؤلو نے جنیوا میں کہا کہ موجودہ ایل نینو گزشتہ چار دہائیوں میں استعمال ہونے والے نگرانی کے پیمانوں کے لحاظ سے غیر معمولی طاقتور ثابت ہوسکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق ایل نینو دسمبر میں عروج پر پہنچنے کی توقع ہے، لیکن اس سے وابستہ شدید گرمی، سیلاب اور خشک سالی کے انسانی اثرات 2027 اور اس کے بعد بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خاص طور پر ان آبادیوں کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جو پہلے ہی خوراک، پانی، صحت یا نقل مکانی کے بحرانوں کا سامنا کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا کہ ایل نینو لاطینی امریکا، مشرقی و جنوبی افریقہ، ایشیا اور بحرالکاہل کے مختلف حصوں میں موجود بحرانوں کو مزید سنگین کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق اصل خطرہ صرف ایک موسمی واقعہ نہیں بلکہ متعدد بحرانوں کا ایک دوسرے پر جمع ہونا ہے، جس سے کمزور ممالک اور کمیونٹیز کی بحالی کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔

ایل نینو بحرالکاہل کے استوائی حصے میں سمندری سطح کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے منسلک قدرتی موسمیاتی رجحان ہے، جو دنیا کے مختلف خطوں میں بارش، درجہ حرارت اور طوفانی نظاموں کے انداز بدل سکتا ہے۔ ہر ملک اور خطے پر اس کا اثر یکساں نہیں ہوتا، اس لیے عالمی انتباہ کو کسی مخصوص مقام پر یقینی سیلاب یا خشک سالی کی پیش گوئی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کا زور پیشگی مالی معاونت، خوراک و پانی کے ذخائر، صحت کے نظام کی تیاری، موسمی انتباہی نظام اور خطرے سے دوچار آبادیوں تک بروقت مدد پہنچانے پر ہے۔ عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ ایل نینو کو روکا نہیں جاسکتا، لیکن بہتر تیاری کے ذریعے اس کے انسانی نقصانات میں نمایاں کمی ممکن ہے۔