اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی نئی رپورٹ نے عالمی حدت کے سابق تخمینوں میں اضافہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ پالیسیوں کے تسلسل کی صورت میں 2100 تک دنیا کا اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 2.8 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ قومی وعدوں پر مکمل عمل بھی حدت کو تقریباً 2.6 ڈگری تک محدود کر پائے گا، جو پیرس معاہدے کے اہداف سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

رائٹرز کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے تیز پھیلاؤ اور متعدد ممالک میں اخراج کم کرنے والی پالیسیوں کے باوجود بہترین ممکنہ راستے کے لیے بھی فوری اور سخت اقدامات درکار ہیں۔ انتہائی امید افزا منظرنامے میں بھی صدی کے وسط تک اوسط عالمی حدت 1.7 سے 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا تخمینہ دیا گیا ہے۔

UNEP کے مطابق بہتر راستے پر آنے کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے عالمی اخراج کو 2025 کی سطح کے مقابلے میں 2030 تک 18 فیصد، 2035 تک 45 فیصد اور 2040 تک 69 فیصد کم کرنا ہوگا۔ اس کے مقابلے میں ممالک کے موجودہ منصوبے 2030 تک صرف پانچ سے آٹھ فیصد اور 2035 تک 11 سے 15 فیصد کمی کی طرف لے جاتے ہیں۔

رپورٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ درجہ حرارت کے تخمینوں کی وجوہ میں امریکا کے پیرس معاہدے سے انخلا اور تاریخی اخراج کے اعداد و شمار کے نئے جائزے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، سیلاب اور دیگر موسمیاتی خطرات کے معاشی و انسانی اثرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ توانائی کی منتقلی کی موجودہ رفتار اہم ہونے کے باوجود کافی نہیں۔ ممالک کو بجلی، صنعت، ٹرانسپورٹ اور زمین کے استعمال سے پیدا ہونے والے اخراج میں زیادہ تیز کمی کے ساتھ مالی معاونت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی بڑھانا ہوگی۔ اگر اخراج میں مطلوبہ کمی مؤخر ہوتی رہی تو کم درجہ حرارت والے راستے تک پہنچنے کے لیے مستقبل میں کہیں زیادہ مہنگے اور مشکل اقدامات درکار ہوں گے۔