حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے عالمی ’کالی فنڈ‘ کو اپنے ابتدائی مرحلے میں شدید مالیاتی مشکلات کا سامنا ہے اور اس میں اب تک صرف 7,085 ڈالر جمع ہوئے ہیں۔ ڈان میں شائع ہونے والی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یہ فنڈ ایسے کاروباری اداروں سے مالی شراکت حاصل کرنے کے لیے بنایا گیا تھا جو قدرتی جانداروں سے حاصل ہونے والی ڈیجیٹل جینیاتی معلومات کو تجارتی تحقیق اور مصنوعات میں استعمال کرتے ہیں۔
کالی فنڈ کو اقوام متحدہ کے حیاتیاتی تنوع کے عالمی فریم ورک کے تحت ایک نئے مالیاتی طریقہ کار کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ ڈیجیٹل سیکوئنس انفارمیشن یا جینیاتی ڈیٹا سے فائدہ حاصل کرنے والی بڑی کمپنیاں اپنے منافع یا آمدن کا ایک چھوٹا حصہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ان ممالک و مقامی برادریوں کی مدد کے لیے دیں جہاں سے حیاتیاتی وسائل کا تعلق ہے۔
رپورٹ کے مطابق فنڈ کے لیے مالی تعاون رضاکارانہ نوعیت کا ہے اور یہی اس کی ابتدائی کمزوری کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ہزاروں ڈالر کی موجودہ رقم اس عالمی سطح کے فنڈ کے اہداف کے مقابلے میں نہایت محدود ہے۔ یہ رقم فنڈ کے قانونی خاتمے کا اعلان نہیں، لیکن اس کے مالیاتی ماڈل کی عملی کامیابی پر سنجیدہ سوال ضرور پیدا کرتی ہے۔
ڈیجیٹل جینیاتی معلومات ادویات، زرعی تحقیق، بائیوٹیکنالوجی اور دیگر سائنسی و تجارتی شعبوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ حیاتیاتی تنوع کے مذاکرات میں طویل عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ ایسے ڈیٹا سے ہونے والے مالی فوائد کا ایک حصہ ان ممالک اور برادریوں تک کیسے پہنچایا جائے جو حیاتیاتی وسائل کے اصل نگہبان ہیں۔ کالی فنڈ اسی اختلاف کے حل کی ایک کوشش ہے۔
فنڈ کی کم ابتدائی وصولی کے بعد حکومتوں، کمپنیوں اور بین الاقوامی اداروں پر یہ دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ رضاکارانہ شراکت کے طریقہ کار، اہداف اور جواب دہی کا دوبارہ جائزہ لیں۔ مستقبل میں اس منصوبے کی بقا اور اثر کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ بڑی تجارتی کمپنیاں مالی تعاون بڑھاتی ہیں یا رکن ممالک کوئی زیادہ مضبوط طریقہ کار اختیار کرتے ہیں۔ فی الحال دستیاب اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حیاتیاتی تنوع کے لیے جدید مالیاتی ذرائع پیدا کرنے کا یہ تجربہ اپنے ابتدائی مرحلے میں مطلوبہ وسائل حاصل نہیں کر سکا۔

