لندن: اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی نئی رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ پہلے کے اندازوں سے زیادہ رہنے کا امکان ہے اور بہترین ممکنہ پالیسی منظرنامے میں بھی وسط صدی تک اوسط حدت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.7 سے 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتی ہے۔ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ممالک ترکی میں ہونے والی COP31 موسمیاتی کانفرنس کی تیاری کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قابل تجدید توانائی کے تیز پھیلاؤ اور کئی ممالک میں اخراج کم کرنے والی پالیسیوں کے باوجود مطلوبہ راستے پر آنے کے لیے فوری اور سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے اندازہ لگایا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو 2025 کی سطح کے مقابلے میں 2030 تک 18 فیصد، 2035 تک 45 فیصد اور 2040 تک 69 فیصد کم کرنا ہو گا تاکہ کم ترین ممکنہ حدت والے منظرنامے کے قریب پہنچا جا سکے۔

اس کے برعکس موجودہ قومی منصوبوں سے 2030 تک صرف 5 سے 8 فیصد اور 2035 تک 11 سے 15 فیصد کمی متوقع ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ پالیسیاں برقرار رہیں تو 2100 تک دنیا تقریباً 2.8 ڈگری سینٹی گریڈ گرم ہو سکتی ہے، جبکہ ممالک اپنے موجودہ موسمیاتی وعدے مکمل طور پر نافذ کر دیں تو بھی تخمینہ تقریباً 2.6 ڈگری بنتا ہے۔ یہ دونوں اندازے گزشتہ سال کے تخمینوں سے زیادہ ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے زور دیا کہ 1.5 ڈگری کی حد سے عارضی تجاوز کو کوشش ترک کرنے کی وجہ نہیں بننا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق اب 1.5 ڈگری تک حدت کو بغیر یا بہت محدود تجاوز کے روکنا ممکن نہیں سمجھا جا رہا، تاہم تیز رفتار اخراج میں کمی اور بڑے پیمانے پر کاربن ہٹانے کے اقدامات سے صدی کے اختتام تک درجہ حرارت کو دوبارہ 1.5 ڈگری یا اس سے کم سطح پر لانے کا امکان پیدا کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ گزشتہ سال کے بعد جمع کرائے گئے نئے قومی موسمیاتی منصوبوں نے مجموعی حدت کے تخمینے میں بہت معمولی فرق ڈالا ہے۔ کاربن کو فضا سے بڑے پیمانے پر ہٹانے کی ٹیکنالوجی کی عملی صلاحیت بھی غیر یقینی ہے، اس لیے اصل توجہ فوری اخراج میں کمی پر رکھنے کی ضرورت بتائی گئی ہے۔ COP31 میں ممالک کے سامنے بنیادی سوال یہی ہو گا کہ موجودہ وعدوں اور مطلوبہ کمی کے درمیان بڑے فاصلے کو کس طرح کم کیا جائے۔