منیلا: ایشیائی ترقیاتی بینک نے خبردار کیا ہے کہ ایشیا بحرالکاہل کی ساحلی معیشتوں میں بڑھتی سمندری سطح اور شدید ساحلی خطرات کے باعث سیلاب سے سالانہ اقتصادی نقصان 2050 تک 172 ارب سے 199 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 21 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ تخمینے ADB کی Asia-Pacific Climate Report 2026: Coastal Risks on the Rise—Actions for a Resilient Future میں پیش کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں 30 ساحلی معیشتوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ موجودہ سالانہ ساحلی سیلابی نقصان تقریباً 27 ارب ڈالر بتایا گیا ہے، جبکہ صدی کے آخر تک، یعنی 2100 میں، یہ نقصان 520 ارب سے 739 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ اعداد موسمیاتی اور اقتصادی ماڈلنگ پر مبنی تخمینے ہیں، حتمی یا یقینی نقصانات نہیں۔ اصل اثر اخراج، حفاظتی سرمایہ کاری، شہری منصوبہ بندی اور موافقتی اقدامات کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔
ADB کے مطابق خطے کی ساحلی پٹیاں سالانہ تقریباً 7 ٹریلین ڈالر کی اقتصادی پیداوار پیدا کرتی ہیں، اس لیے بندرگاہوں، شہروں، صنعتوں، رہائش اور بنیادی ڈھانچے پر بڑھتا خطرہ وسیع معاشی اثرات رکھتا ہے۔ سمندر کی سطح میں اضافہ، طوفانی لہریں اور شدید موسمی واقعات ساحلی آبادیوں کے لیے براہ راست خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کا زور صرف متوقع نقصان پر نہیں بلکہ خطرات کم کرنے کے لیے پیشگی سرمایہ کاری پر بھی ہے۔ ساحلی دفاع، قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی، بہتر زمین استعمال، مضبوط عمارتیں اور خطرے سے آگاہ انفراسٹرکچر منصوبہ بندی ایسے اقدامات میں شامل ہیں جو مستقبل کے نقصانات کم کر سکتے ہیں۔ مختلف ممالک کے لیے مناسب حکمت عملی ان کی جغرافیائی، مالی اور سماجی صورتحال کے مطابق مختلف ہوگی۔
ایشیا بحرالکاہل میں بڑے ساحلی شہر اور تجارتی مراکز موجود ہیں، اس لیے ساحلی خطرات صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ تجارت، روزگار، مالی استحکام اور شہری ترقی کا مسئلہ بھی ہیں۔ ADB کے تخمینے پالیسی سازوں کے لیے یہ اشارہ دیتے ہیں کہ موافقت میں تاخیر مستقبل میں کہیں زیادہ مالی لاگت پیدا کر سکتی ہے، جبکہ بروقت منصوبہ بندی خطرے اور نقصان دونوں کو محدود کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

