کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جام چاکرو میں صوبے کے پہلے سینیٹری انجینئرڈ لینڈ فل سائٹ کے پہلے مرحلے کا افتتاح کردیا ہے، جبکہ ان کے مطابق کراچی میں تعمیر کیے جانے والے چار گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز بھی تکمیل کے آخری مراحل میں پہنچ گئے ہیں۔ منصوبے کا مقصد شہر میں کچرے کو جمع کرنے، منتقل کرنے اور محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے موجودہ نظام کو زیادہ منظم بنانا ہے۔

جام چاکرو کئی برس سے کراچی کے بڑے کچرا ٹھکانے لگانے والے مقامات میں شامل رہا ہے، لیکن نئی engineered landfill سہولت کو روایتی کھلے ڈمپنگ نظام سے مختلف تکنیکی معیار کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ ایسے لینڈ فل میں کچرے کی تہہ بندی، زمین اور زیر زمین پانی کے تحفظ، رسنے والے آلودہ مائع کے انتظام اور گیسوں کی نگرانی جیسے انتظامات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ افتتاح پہلے مرحلے کا ہے، اس لیے پورے منصوبے کی تمام مجوزہ گنجائش کو مکمل شدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ شہر میں چار گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز پر کام آخری مراحل میں ہے۔ یہ مراکز مختلف علاقوں سے جمع ہونے والے بلدیاتی کچرے کو عارضی طور پر منظم انداز میں وصول کرکے بڑی گاڑیوں کے ذریعے حتمی لینڈ فل تک منتقل کرنے کے لیے بنائے جا رہے ہیں۔ اس نظام کا مقصد چھوٹی collection گاڑیوں کے طویل فاصلے کے سفر کو کم کرنا اور کچرا منتقلی کے عمل کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

کراچی طویل عرصے سے ٹھوس فضلے کے انتظام، غیر قانونی dumping، کھلے مقامات پر کچرے اور نکاسی آب کے مسائل سے دوچار ہے۔ انجینئرڈ لینڈ فل اور ٹرانسفر اسٹیشنز بنیادی ڈھانچے کی اہم پیش رفت ہیں، لیکن شہر کی صفائی میں حقیقی بہتری کا انحصار روزانہ collection، گاڑیوں کی دستیابی، ٹرانسفر مراکز کے مسلسل آپریشن، لینڈ فل کے ماحولیاتی معیار اور مقامی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے پر ہوگا۔

صوبائی حکومت نے اس منصوبے کو کراچی کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نظام کی جدید کاری کا حصہ قرار دیا ہے۔ آئندہ مرحلوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ چاروں ٹرانسفر اسٹیشن کب مکمل طور پر فعال ہوتے ہیں اور جام چاکرو کی نئی سہولت شہر کے روزانہ پیدا ہونے والے کچرے کا کتنا حصہ سائنسی طریقے سے سنبھال پاتی ہے۔