کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے ٹیکسٹائل شعبے کی چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے لیے ایس ایم ای گرین ٹرانزیشن ٹول کٹ جاری کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مالیاتی اداروں کو ایسے عملی طریقے فراہم کرنا ہے جن کے ذریعے وہ ٹیکسٹائل کاروباروں کی ماحولیاتی کارکردگی کا جائزہ لے سکیں اور توانائی و وسائل کے زیادہ مؤثر استعمال کے لیے قابل عمل مالی منصوبے تیار کر سکیں۔

ٹول کٹ اسٹیٹ بینک کے ایس ایم ای، ہاؤسنگ اینڈ سسٹین ایبل فنانس ڈیپارٹمنٹ اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔ یہ پاکستان گرین ٹیکسانومی کے اصولوں کو بینکوں کے لیے عملی تشخیصی طریقہ کار میں تبدیل کرتی ہے، تاکہ ٹیکسٹائل کلائنٹس کے ساتھ قرض اور سرمایہ کاری کے فیصلوں میں ماحولیاتی عوامل کو زیادہ منظم انداز میں شامل کیا جا سکے۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق مالیاتی ادارے اس ٹول کٹ کے ذریعے ویٹڈ ایوریج کاربن انٹینسٹی اور مخصوص توانائی کھپت جیسے اشاریوں کا جائزہ لے سکیں گے۔ اس کے بعد شمسی توانائی، فضلہ حرارت کی بازیافت اور ایندھن کی تبدیلی جیسے ممکنہ گرین اقدامات کی نشاندہی کی جا سکے گی۔ ساتھ فراہم کردہ ایکسل پر مبنی آلے کے ذریعے ان اقدامات کے لیے مالیاتی منصوبہ بندی بھی کی جا سکے گی۔

اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے تقریب میں کہا کہ ٹیکسٹائل پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ ہے اور ایس ایم ایز براہ راست اور بڑی کمپنیوں کی ویلیو چینز دونوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے مطابق توانائی کی کارکردگی بہتر بنانے، پانی کا استعمال کم کرنے اور صاف پیداوار اپنانے سے کاروباری لاگت کم، عالمی منڈی تک رسائی برقرار اور مالی لچک بہتر ہو سکتی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے کہا کہ اگلا مرحلہ فریم ورک کو عملی فنانسنگ سے جوڑنا ہے اور اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک، بینکوں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ گرین ٹیکسٹائل ٹرانزیشن فنانس سہولت کے امکانات دیکھے جائیں گے۔ یہ فی الحال مستقبل کا منصوبہ ہے، کوئی منظور شدہ قرض اسکیم نہیں۔ رپورٹ کے مطابق بینک اب ٹیکسٹائل کلائنٹس کے ساتھ ٹول کٹ کی آزمائشی تطبیق شروع کریں گے اور وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی اور تربیت فراہم کی جائے گی۔