راولپنڈی: راولپنڈی میں پانی کی یومیہ طلب اور دستیاب فراہمی کے درمیان فرق 21 ملین گیلن یومیہ تک پہنچ گیا ہے، جس پر ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ نے بڑے آبی منصوبوں کی تکمیل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آبادی اور طلب میں اضافے کے ساتھ یہ کمی آنے والے برسوں میں مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

ڈان کے مطابق ڈویژنل کمشنر سلمان غنی کی زیر صدارت پانی کے وسائل سے متعلق اجلاس میں بتایا گیا کہ واسا راولپنڈی کو روزانہ تقریباً 72 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے، جبکہ موجودہ ذرائع سے تقریباً 51 ملین گیلن یومیہ دستیاب ہے۔ اس طرح موجودہ شارٹ فال 21 ملین گیلن بنتا ہے۔ اجلاس میں واسا، اسمال ڈیمز آرگنائزیشن اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام شریک ہوئے۔

کمشنر نے چہان ڈیم، چراہ ڈیم اور دادوچہ ڈیم سے متعلق منصوبوں پر کام تیز کرنے اور پنجاب حکومت کی ہدایات کے مطابق راول ڈیم کے دستیاب وسائل کو بھی مؤثر انداز میں استعمال کرنے پر زور دیا۔ راولپنڈی کی پانی کی فراہمی مختلف ڈیموں کے ساتھ ٹیوب ویل نظام پر بھی منحصر ہے، اس لیے حکام کو موجودہ وسائل کے بہتر انتظام اور نئی فراہمی دونوں محاذوں پر کام کرنا ہوگا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ دادوچہ ڈیم کی تعمیر کا تقریباً 92 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ منصوبے میں 28 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی شامل ہیں۔ مکمل نیٹ ورک فعال ہونے کے بعد اس منصوبے سے شہر کو روزانہ 35 ملین گیلن صاف پانی فراہم کرنے کی گنجائش بتائی گئی ہے، تاہم پورا واٹر سپلائی نیٹ ورک دسمبر 2029 تک فعال ہونے کی توقع ہے۔ اس لیے موجودہ 21 ملین گیلن کی کمی کا فوری حل صرف اس منصوبے سے دستیاب نہیں ہوگا۔

چہان ڈیم پر واٹر ٹریٹمنٹ اور فلٹریشن پلانٹ دسمبر 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف بتایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس منصوبے سے ڈھائی لاکھ سے زیادہ شہریوں کو صاف پینے کا پانی فراہم کیا جا سکے گا۔ چراہ ڈیم بھی واسا راولپنڈی کے ماسٹر پلان میں شامل ہے اور اس سے مزید 28 ملین گیلن یومیہ پانی حاصل کرنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

راولپنڈی میں پانی کا مسئلہ صرف مجموعی مقدار تک محدود نہیں بلکہ موسمی دباؤ، زیر زمین پانی پر انحصار، آبادی میں اضافہ اور ترسیلی نظام کی استعداد بھی اس بحران کی شدت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بڑے ڈیم منصوبے طویل مدتی فراہمی میں اضافہ کر سکتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ ٹریٹمنٹ پلانٹس، ٹرانسمیشن لائنیں اور شہری تقسیم کا نظام بھی بروقت مکمل ہونا ضروری ہے۔

کمشنر نے متعلقہ اداروں کو باہمی رابطہ بہتر بنانے اور منصوبوں میں تاخیر کم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ موجودہ اعداد کے مطابق شہر کو اپنی روزمرہ ضرورت پوری کرنے کے لیے فوری طور پر تقریباً 21 ملین گیلن اضافی پانی درکار ہے، جبکہ کئی بڑے منصوبوں کے فوائد مرحلہ وار اگلے چند برسوں میں سامنے آئیں گے۔ اس لیے حکام کے لیے قلیل مدتی انتظام اور طویل مدتی انفراسٹرکچر دونوں کو بیک وقت آگے بڑھانا اہم ہوگا۔