بیجنگ: چین نے اشارہ دیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ ترکی کے شہر انطالیہ میں ہونے والی COP31 موسمیاتی کانفرنس میں اپنی صاف ٹیکنالوجی پر عائد تجارتی محصولات اور دیگر رکاوٹوں کا معاملہ نمایاں طور پر اٹھائے گا۔ چین کی وزارت ماحولیات و ایکولوجی کے نائب وزیر لی گاؤ نے کہا کہ عالمی موسمیاتی کوششوں کے سامنے روایتی مسائل کے ساتھ یکطرفہ تجارتی اقدامات اور تحفظ پسندی ایک نیا چیلنج بن رہے ہیں۔

لی گاؤ کے مطابق کانفرنس میں ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے ناکافی اخراج کمی اور ترقی پذیر دنیا کے لیے ناکافی مالی معاونت جیسے دیرینہ معاملات پر بھی گہری بحث ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی بڑھنے کے ماحول میں سبز ٹیکنالوجی کی آزادانہ ترسیل اور عالمی تعاون کو متاثر کرنے والی تجارتی رکاوٹوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔

چین دنیا میں سولر پینلز، ونڈ ٹربائنز، بیٹریوں اور الیکٹرک گاڑیوں کا سب سے بڑا پیداواری مرکز ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز عالمی اخراج کم کرنے میں اہم سمجھی جاتی ہیں، لیکن امریکہ اور یورپی یونین سمیت بعض بڑی منڈیوں میں مقامی صنعت پر مسابقتی اثرات کے خدشات کے باعث چینی مصنوعات پر بھاری محصولات یا پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکہ نے چینی سولر مصنوعات اور برقی گاڑیوں پر سخت ٹیرف نافذ کیے ہیں جبکہ یورپی یونین نے گاڑیوں اور بعض سولر اجزا کے خلاف تجارتی اقدامات کیے اور ایک بڑی چینی ونڈ کمپنی سے متعلق تحقیقات بھی شروع کیں۔

چینی نائب وزیر نے کہا کہ COP31 کو سبز ٹیکنالوجی کے آزاد بہاؤ پر بات کرنی چاہیے اور چین اپنے خلاف الزامات یا حملوں کا مضبوط جواب دے گا۔ انہوں نے 2024 میں کیے گئے اس وعدے کے لیے واضح روڈ میپ کو بھی ترجیح قرار دیا جس کے تحت ترقی پذیر ممالک کے لیے سالانہ 300 ارب ڈالر کی موسمیاتی مالیات متحرک کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔

ترکی کی جانب سے عالمی سطح پر بجلی کے استعمال اور الیکٹریفکیشن کو تیز کرنے کے مجوزہ معاہدے کے بارے میں لی گاؤ نے کہا کہ اس کا مقصد چینی پالیسی کے عمومی رخ سے مطابقت رکھتا ہے، تاہم انہوں نے مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعلان نہیں کیا۔ ان کے مطابق کانفرنس کی صدارت کو تمام فریقوں کی آرا سن کر وسیع ترین اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس طرح COP31 میں اخراج اور مالیات کے ساتھ صاف توانائی کی عالمی تجارت بھی ایک اہم مذاکراتی میدان بننے جا رہی ہے۔