اسلام آباد: پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیر ریسرچ کمیشن، سپارکو، 27 سے 31 اکتوبر 2026 تک اسلام آباد میں خلائی ٹیکنالوجی، موسمیاتی اقدام اور آفات کے خطرات کے جائزے سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ کانفرنس اقوام متحدہ اور پاکستان کے تعاون سے منعقد کی جا رہی ہے اور اس کا مرکزی موضوع ’ارلی وارننگ فار آل‘ کے اہداف کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔
منتظمین کے مطابق اجلاس میں سیٹلائٹ ڈیٹا، ریموٹ سینسنگ، جغرافیائی معلوماتی نظام اور دوسری خلائی ٹیکنالوجیز کو سیلاب، خشک سالی، شدید موسم اور دیگر قدرتی خطرات کی نگرانی اور پیشگی اطلاع کے نظام سے جوڑنے پر بحث ہوگی۔ پاکستان کو حالیہ برسوں میں شدید سیلاب، گرمی کی لہروں اور موسمیاتی تبدیلی کے دوسرے اثرات کا سامنا رہا ہے، جس سے بروقت وارننگ اور خطرے کی نقشہ بندی کی اہمیت بڑھی ہے۔
کانفرنس میں مختلف ممالک کے ماہرین، پالیسی سازوں، خلائی اداروں، موسمیاتی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نمائندوں اور تکنیکی ماہرین کی شرکت متوقع ہے۔ پانچ روزہ پروگرام کا مقصد عملی تجربات، سیٹلائٹ ڈیٹا کے استعمال، ادارہ جاتی تعاون اور ایسے نظاموں پر تبادلہ خیال کرنا ہے جو خطرے سے دوچار آبادیوں تک زیادہ بروقت معلومات پہنچا سکیں۔
’ارلی وارننگ فار آل‘ اقوام متحدہ کی ایک عالمی کوشش ہے جس کا مقصد لوگوں کو خطرناک موسمی اور ماحولیاتی واقعات سے پہلے مؤثر وارننگ تک رسائی دینا ہے۔ خلائی ٹیکنالوجی اس نظام میں زمین کی سطح، بادلوں، بارش، پانی، فصلوں اور ماحول کی مسلسل نگرانی کے ذریعے اہم ڈیٹا فراہم کر سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے کانفرنس کا ایک اہم پہلو مقامی اداروں کی تکنیکی صلاحیت اور بین الاقوامی تعاون میں اضافہ ہے۔ سپارکو پہلے ہی سیٹلائٹ مشاہدات اور ریموٹ سینسنگ کے ذریعے زراعت، پانی، شہری منصوبہ بندی اور آفات سے متعلق ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ عالمی ماہرین کے ساتھ تعاون سے ڈیٹا کو فیصلہ سازی اور مقامی سطح کے وارننگ نظام تک تیزی سے پہنچانے کے طریقوں پر کام کیا جا سکتا ہے۔
کانفرنس کے انعقاد کا اعلان مستقبل کے پروگرام سے متعلق ہے؛ اس لیے شرکا کی حتمی تعداد، کسی ممکنہ معاہدے یا تکنیکی منصوبے کے نتائج کانفرنس مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ اسلام آباد 27 سے 31 اکتوبر تک اس بین الاقوامی اجتماع کی میزبانی کرے گا۔

