واشنگٹن/اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ’’کلائمیٹ پراسپیریٹی پلان‘‘ تیار کر رہا ہے جس کا مقصد موسمیاتی خطرات، ترقیاتی ضروریات اور سرمایہ کاری کے اہداف کو ایک مربوط مالی فریم ورک میں لانا ہے۔ انہوں نے کثیرالجہتی ترقیاتی اداروں پر زور دیا کہ پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کے لیے گرانٹس اور رعایتی فنانسنگ کے مواقع میں اضافہ کیا جائے۔
وزیر خزانہ نے واشنگٹن میں عالمی مالیاتی اداروں کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہونے والی مصروفیات کے دوران پاکستان کی موسمیاتی مالیاتی ضروریات اجاگر کیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ شدید موسمی واقعات سے بنیادی ڈھانچے، زراعت، روزگار اور سرکاری مالیات پر پڑنے والے اثرات ایسے ممالک کے لیے اضافی بوجھ پیدا کرتے ہیں جن کے پاس پہلے ہی ترقیاتی وسائل محدود ہیں۔ اسی لیے موسمیاتی موافقت اور لچک کے منصوبوں کے لیے کم لاگت اور طویل مدت کی فنانسنگ اہم ہے۔
مجوزہ کلائمیٹ پراسپیریٹی پلان سے توقع ہے کہ یہ موسمیاتی موافقت، کم کاربن ترقی، توانائی منتقلی اور آفات کے مقابلے میں لچکدار بنیادی ڈھانچے سے متعلق ترجیحات کو سرمایہ کاری کے قابل منصوبوں سے جوڑے گا۔ حکومت اس فریم ورک کو نجی سرمایہ، ترقیاتی شراکت داروں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے وسائل متحرک کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔
پاکستان حالیہ برسوں میں سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی اور دیگر موسمی خطرات کے معاشی اثرات کا سامنا کرتا رہا ہے۔ ایسے حالات میں موسمیاتی منصوبوں کے لیے صرف تجارتی قرضوں پر انحصار قرض کی پائیداری کے لیے مشکل پیدا کر سکتا ہے، اسی وجہ سے حکومت گرانٹس، رعایتی قرضوں اور خطرہ بانٹنے والے مالیاتی آلات پر زور دے رہی ہے۔
کلائمیٹ پراسپیریٹی پلان ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے، اس لیے اس کے حتمی مالی حجم، منصوبوں کی فہرست اور نفاذ کی مدت سے متعلق تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ تاہم وزیر خزانہ کے بیان سے واضح ہے کہ پاکستان موسمیاتی مالیات کو اپنی وسیع تر ترقیاتی اور معاشی حکمت عملی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے اور بین الاقوامی شراکت داروں سے زیادہ قابل رسائی مالی معاونت کا خواہاں ہے۔

