اسلام آباد: پاکستان میں متعدد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ہائی اسپیڈ ڈیزل کے ذخائر کم از کم 20 روزہ کھپت کے مقررہ معیار سے نیچے آ گئے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق تازہ صنعتی اسٹاک ڈیٹا میں 20 میں سے 12 کمپنیوں کے پاس 20 دن سے کم کا ڈیزل کور دکھایا گیا، جبکہ بعض چھوٹی کمپنیوں کے ذخائر چند دنوں کی کھپت تک محدود تھے۔

رپورٹ کے مطابق زیڈ ایم او پی ایل اور ہائی ٹیک کے پاس 16، الائیڈ کے پاس 11، فلو کے پاس 10، جی او کے پاس 9، ہیسکول اور ہورائزن کے پاس 8، یورو کے پاس 7، تاج کے پاس 6، ایکو کے پاس 3، وائٹل کے پاس 2 اور مائی پیٹرولیم کے پاس ایک دن کا اسٹاک کور تھا۔ اس کے مقابلے میں آٹھ کمپنیوں کے ذخائر 20 روزہ سطح سے اوپر بتائے گئے، جن میں پی ایس او، اٹک، پاما اور دیگر شامل ہیں۔

صنعتی حکام نے کم ذخائر کو فوری طور پر ڈیزل کی مجموعی عدم دستیابی سے زیادہ قیمتوں کے نظام کی غیر یقینی سے جوڑا ہے۔ ان کے مطابق اگر کمپنی موجودہ بلند قیمت پر بڑا ذخیرہ خریدے اور بعد میں سرکاری قیمت کم ہو جائے تو اسے انوینٹری نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی خدشے کے باعث بعض کمپنیاں نئی خریداری محدود کر رہی ہیں اور قیمت کے اگلے فیصلے کا انتظار کر رہی ہیں۔

آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے بھی پیٹرولیم حکام کو قیمتوں کے طریقۂ کار میں زیادہ پیش گوئی اور استحکام کی ضرورت سے آگاہ کیا ہے۔ رپورٹ میں صنعت کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ اوگرا کے پاس زیر التوا پرائس ڈیفرینشل کلیمز اور بلند فنانسنگ لاگت نے ورکنگ کیپیٹل پر دباؤ بڑھایا ہے، خاص طور پر چھوٹی او ایم سیز کے لیے مقررہ اسٹاک برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔

کم اسٹاک کور سپلائی چین کے لیے خطرے کی علامت ہو سکتا ہے، لیکن موجودہ اعدادوشمار کو ملک گیر ڈیزل قلت کا ثبوت نہیں سمجھا جانا چاہیے کیونکہ کئی بڑی کمپنیوں کے پاس 20 دن سے زیادہ کے ذخائر موجود ہیں۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر کم خریداری، نقدی مسائل اور قیمتوں کی غیر یقینی طویل ہو گئی تو مجموعی سپلائی نظام زیادہ دباؤ میں آ سکتا ہے۔ ریگولیٹر اور صنعت کے آئندہ اقدامات اس صورتحال کے استحکام کے لیے اہم ہوں گے۔