کراچی: پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی کی پیمائش کرنے والا حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) 10 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں سالانہ بنیاد پر 8.62 فیصد بڑھ گیا، جبکہ گزشتہ ہفتے یہ شرح 8.35 فیصد تھی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعدادوشمار کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر اشاریے میں 0.23 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی ایس پی آئی 364.26 کی سطح پر پہنچ گیا۔

ایس پی آئی ملک کے 17 شہروں کی 50 منڈیوں میں 51 ضروری اشیا کی قیمتوں کو مانیٹر کرتا ہے۔ تازہ ہفتے میں توانائی کی قیمتوں نے مجموعی اشاریے پر نمایاں دباؤ ڈالا۔ رپورٹ کے مطابق پٹرول سپر کی اوسط قیمت 6.18 فیصد، ہائی اسپیڈ ڈیزل 5.49 فیصد اور ایل پی جی سلنڈر 4.32 فیصد مہنگا ہوا۔ دال ماش، کپڑے دھونے کے صابن، آٹے، دال مسور اور سرسوں کے تیل سمیت بعض دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس کے برعکس کئی غذائی اشیا سستی ہوئیں۔ کیلے 7.73 فیصد، ٹماٹر 5.24 فیصد، مرغی 4.22 فیصد، پیاز 3.72 فیصد اور آلو 1.88 فیصد کم قیمت پر فروخت ہوئے۔ مجموعی 51 اشیا میں سے 14 کی قیمت بڑھی، 10 کی کم ہوئی اور 27 اشیا کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی ریکارڈ نہیں کی گئی۔

سالانہ موازنہ میں بعض بنیادی اشیا اور توانائی کی قیمتیں اب بھی نمایاں طور پر بلند ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پیاز ایک سال پہلے کے مقابلے میں 125.52 فیصد، ایل پی جی 55.42 فیصد، ہائی اسپیڈ ڈیزل 45.26 فیصد، پٹرول 39.10 فیصد اور گندم کا آٹا 30.18 فیصد مہنگا تھا۔ دوسری جانب آلو، مرغی، چینی، انڈے اور ٹماٹر سالانہ بنیاد پر نسبتاً سستے رہے۔

آمدنی کے مختلف گروہوں پر اثر بھی یکساں نہیں رہا۔ کم ترین اخراجاتی گروپ میں ہفتہ وار اشاریہ معمولی کم ہوا، جبکہ بلند اخراجاتی گروپ میں ایندھن کی قیمتوں کے باعث زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعدادوشمار ہفتہ وار قیمتوں کی تصویر پیش کرتے ہیں اور انہیں ماہانہ صارف قیمت اشاریے سے الگ سمجھنا چاہیے۔ اگلے ہفتوں میں ایندھن اور خوراک کی قیمتوں کی سمت ایس پی آئی کے رجحان کے لیے اہم رہے گی۔