اسلام آباد: پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے جائزہ مشن کو بتایا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر 2026، کے لیے مقرر 3.053 ٹریلین روپے کا ٹیکس وصولی ہدف حاصل کرنے کی توقع رکھتا ہے۔ Profit by Pakistan Today نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایف بی آر حکام نے IMF وفد کو پہلی سہ ماہی کی اب تک کی ریونیو پوزیشن، اگست میں ہونے والی کمی اور ستمبر کے باقی ہدف کے بارے میں بریفنگ دی۔

رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں ایف بی آر نے اپنا ماہانہ ہدف پورا کیا تھا، لیکن اگست میں مقررہ ہدف سے تقریباً 28 ارب روپے کم وصولی ہوئی۔ ایف بی آر حکام نے IMF ٹیم کو بتایا کہ ستمبر کے لیے 1.330 ٹریلین روپے کی وصولی کا ہدف حاصل کرنے کے ساتھ مجموعی سہ ماہی ہدف بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ یہ حکام کی پیش گوئی اور یقین دہانی ہے؛ سہ ماہی کے حتمی اعداد و شمار ستمبر کے اختتام اور سرکاری ریونیو نتائج کے اجرا کے بعد ہی طے ہوں گے۔

IMF کا وفد پاکستان میں توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے تیسرے جائزے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ ڈان کے مطابق اس مشن کی سربراہی ایوا پیٹرووا کر رہی ہیں اور وفد تقریباً دو ہفتے پاکستان میں رہنے والا ہے۔ موجودہ جائزے کی کامیاب تکمیل پاکستان کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی اگلی ممکنہ فراہمی سے متعلق عمل کا حصہ ہے، تاہم کسی بھی رقم کے اجرا کے لیے IMF کے رسمی جائزہ اور منظوری کے مراحل ضروری ہیں۔

ٹیکس گوشواروں کے بارے میں بھی ایف بی آر نے IMF کو بریفنگ دی۔ Profit کی رپورٹ کے مطابق ٹیکس سال 2026 کے لیے تقریباً 47 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہو چکے تھے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد تقریباً 32 لاکھ تھی۔ موجودہ قانونی آخری تاریخ 30 ستمبر 2026 ہے۔ ایف بی آر سے ڈیڈ لائن میں توسیع کے مطالبات کیے گئے ہیں، لیکن رپورٹ کے وقت تک کوئی باضابطہ توسیع کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ حکام نے کہا کہ موصولہ گوشواروں کی صورت حال اور متعلقہ فریقوں کی درخواستوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

IMF جائزے میں محصولات، مالیاتی نظم اور اصلاحاتی اہداف مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس لیے ایف بی آر کی سہ ماہی وصولی نہ صرف وفاقی بجٹ کے لیے اہم ہے بلکہ پروگرام کے جائزے میں پاکستان کی کارکردگی جانچنے والے اشاریوں میں بھی شامل ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ خبر ایف بی آر کی جانب سے ہدف حاصل کرنے کی یقین دہانی ہے، نہ کہ 3.053 ٹریلین روپے کی حتمی وصولی کا اعلان۔