اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان کے پروگرام کے جائزے کے لیے موجود بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مشن کو بتایا ہے کہ خلیجی جنگ اور آبنائے ہرمز میں خلل نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اقتصادی سرگرمی کو سست کیا اور ٹیکس وصولیوں پر منفی اثر ڈالا۔ بزنس ریکارڈر نے اعلیٰ سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وفاقی بورڈ آف ریونیو نے اس بیرونی جھٹکے سے قومی خزانے کو پہلی سہ ماہی میں تقریباً 144 ارب روپے کے محصولاتی نقصان کا تخمینہ دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مذاکرات کے ابتدائی دور میں محصولات کی کارکردگی، خلیجی تنازع کے معاشی اثرات اور پروگرام کے تحت ساختی اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ ایف بی آر حکام نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ ہرمز میں رکاوٹ کے بعد ایندھن کی قیمتیں بڑھیں، کاروباری سرگرمی متاثر ہوئی اور درآمدی مرحلے پر سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس وصولیوں پر دباؤ آیا۔ یہ 144 ارب روپے کا عدد ایف بی آر کا تخمینہ ہے اور اسے حتمی آڈٹ شدہ نقصان کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

اس کے باوجود ٹیکس حکام نے توقع ظاہر کی کہ جولائی تا ستمبر کے لیے آئی ایم ایف سے طے شدہ 3.053 ٹریلین روپے کا مجموعی محصولاتی ہدف 30 ستمبر تک حاصل کر لیا جائے گا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ستمبر میں تقریباً 1.330 ٹریلین روپے وصولی متوقع ہے، جو ماہانہ ہدف 1.343 ٹریلین روپے سے معمولی کم ہے، لیکن سہ ماہی کی مجموعی وصولیاں ہدف تک پہنچنے کے لیے کافی سمجھی جا رہی ہیں۔ حتمی اعداد و شمار سہ ماہی مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔

آئی ایم ایف مشن کو ایک الگ اصلاحاتی معاملے میں وفاقی سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے ڈیجیٹل اعلان کے نظام سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 10 ہزار وفاقی سول سرونٹس کو سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی دفعہ 15-A کے تحت اپنے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کی تفصیلات ڈیجیٹل نظام میں جمع کرانا ہوں گی۔ حکومت نے متعلقہ ملازمین کے لیے 30 اکتوبر 2026 تک یہ عمل مکمل کرنے کا ہدف بتایا ہے۔

حکام کے مطابق یہ اعلان اختیاری نہیں ہوگا اور اس کے تحت آنے والے ملازمین کو مقررہ طریقے سے اثاثوں کی تفصیلات دینا ہوں گی۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل اثاثہ جات کے اعلانات دسمبر 2026 یا جنوری 2027 میں شائع کیے جانے کی توقع ہے۔ اس اقدام کو سرکاری شعبے میں شفافیت، احتساب اور اثاثہ جات کی نگرانی بہتر بنانے کی وسیع تر اصلاحات کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ جاری جائزہ مذاکرات میں محصولات، مالیاتی کارکردگی، پروگرام کے ساختی اہداف اور حالیہ بیرونی معاشی دباؤ کا جائزہ جاری رہے گا۔ موجودہ بریفنگ حکومت کا موقف اور ایف بی آر کے تخمینے ظاہر کرتی ہے؛ آئی ایم ایف کی حتمی تشخیص اور جائزے کا نتیجہ مذاکرات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگا۔