اسلام آباد/بنکاک: پاکستان 2027 میں عالمی بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بورڈز آف گورنرز کی صدارت سنبھالے گا۔ وزارتِ اقتصادی امور کے مطابق وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احسن خان چیمہ کو دونوں اداروں کے بورڈز آف گورنرز کے آئندہ چیئرمین کے طور پر باضابطہ طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ اعلان بنکاک میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے 2026 کے سالانہ اجلاسوں کے دوران کیا گیا۔
وزارت کے مطابق پاکستان 1953 کے بعد پہلی مرتبہ یہ ذمہ داری سنبھالنے جا رہا ہے۔ بورڈز آف گورنرز دونوں کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کے اعلیٰ سطح کے گورننس ڈھانچے کا حصہ ہیں، جن میں رکن ممالک کی نمائندگی ہوتی ہے۔ چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان کو 2027 کے دوران اجلاسوں اور متعلقہ ادارہ جاتی رابطوں میں مرکزی کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔
احسن خان چیمہ کو عالمی بینک گروپ کے کارپوریٹ سیکریٹریٹ نے صدارت سے متعلق ذمہ داریوں پر بریفنگ دی۔ انہوں نے عالمی بینک گروپ کی نائب صدر اور کارپوریٹ سیکریٹری ارادھنا کمار کپور سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان کی آئندہ مدتِ صدارت کے لیے ادارہ جاتی معاونت اور رابطہ کاری پر تبادلہ خیال ہوا۔ وزارت کے بیان کے مطابق انہوں نے سبکدوش ہونے والے چیئرمین کارلوس کاروالہو اسپالڈنگ سے بھی ملاقات کی اور آئندہ سال کی ذمہ داریوں اور ترجیحات پر گفتگو کی۔
احسن چیمہ نے کہا کہ پاکستان ترقی پذیر ممالک کی آواز کو زیادہ مؤثر بنانے اور ترقیاتی مالی وسائل کی قابلِ پیش گوئی اور مؤثر فراہمی کے لیے کام کرے گا۔ ان کے مطابق پاکستان کثیرالجہتی ترقیاتی اداروں کے درمیان بہتر رابطے، نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے اور پائیدار و جامع ترقی کی حمایت کے لیے رکن ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستانی وفد بنکاک کے سالانہ اجلاسوں میں قرض، اصلاحات، سرمایہ کاری اور بیرونی فنانسنگ کے معاملات پر مختلف بین الاقوامی اداروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھی ان اجلاسوں میں پاکستان کی معاشی صورتِ حال، مالیاتی نظم اور برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمتِ عملی پیش کر رہے ہیں۔ 2027 کی صدارت انتظامی اور سفارتی اعتبار سے پاکستان کے لیے ایک نمایاں کثیرالجہتی ذمہ داری ہوگی، تاہم اس کا مطلب آئی ایم ایف یا عالمی بینک کی روزمرہ انتظامیہ یا قرض سے متعلق فیصلوں پر یکطرفہ اختیار حاصل ہونا نہیں ہے۔

