کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری کردہ تازہ معلومات کے مطابق 9 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 16 ملین ڈالر اضافے کے ساتھ 21.469 ارب ڈالر ہوگئے۔ کمرشل بینکوں کے پاس موجود 5.393 ارب ڈالر شامل کرنے کے بعد ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 26.863 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک کے ذخائر میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، جس میں بیرونی مالی رقوم اور یورو بانڈز کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم نے بھی کردار ادا کیا۔ تازہ ہفتہ وار اضافہ حجم کے لحاظ سے محدود ہے، لیکن مجموعی ذخائر کی سطح بیرونی ادائیگیوں، درآمدی ضروریات اور مالیاتی منڈی کے اعتماد کے لیے اہم اشارہ سمجھی جاتی ہے۔

زرمبادلہ ذخائر کسی ملک کی بیرونی ادائیگی کی صلاحیت اور کرنسی مارکیٹ میں استحکام کے جائزے میں بنیادی پیمانہ ہوتے ہیں۔ تاہم صرف ذخائر میں اضافہ معیشت کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ تجارتی خسارہ، قرضوں کی ادائیگیاں، بیرونی سرمایہ کاری، ترسیلات زر اور برآمدی آمدن بھی آنے والے مہینوں میں ذخائر کی سمت پر اثر انداز ہوں گے۔

مرکزی بینک کے اعداد و شمار میں اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے ذخائر الگ الگ دکھائے جاتے ہیں۔ تازہ اعداد کے مطابق سب سے بڑا حصہ اسٹیٹ بینک کے پاس ہے، جبکہ نجی اور دیگر کمرشل بینکوں کے پاس پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کے ذخائر موجود ہیں۔ یہ مجموعہ ملک کے کل مائع غیر ملکی ذخائر کی سطح تشکیل دیتا ہے۔

حکومت اور مالیاتی اداروں کے لیے ذخائر میں پائیدار اضافہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے بیرونی مالی دباؤ کم کرنے، درآمدات کی ادائیگی اور قرضوں کی بروقت سروسنگ میں سہولت مل سکتی ہے۔ آئندہ ہفتوں میں ذخائر کی رفتار کا انحصار بیرونی قرضوں کی آمد و ادائیگی، برآمدی وصولیوں، ترسیلات زر اور عالمی مالیاتی حالات پر رہے گا۔