بنکاک: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے امریکی محکمہ خزانہ کی انڈر سیکریٹری برائے بین الاقوامی امور ایرن براؤن سے ملاقات میں پاکستان کے معاشی منظرنامے، اصلاحاتی ایجنڈے اور بیرونی فنانسنگ کی حکمت عملی پر گفتگو کی۔ ملاقات عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے 2026 کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہوئی۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق پاکستانی وزیر خزانہ نے امریکی عہدیدار کو حالیہ مالی پیش رفت اور آئندہ فنڈنگ منصوبوں سے آگاہ کیا۔
اورنگزیب نے ستمبر میں پاکستان کی 3 ارب ڈالر کی یورو بانڈ اجرا کا ذکر کیا اور کہا کہ حکومت سکوک، پانڈا بانڈز اور دیگر ذرائع کے ذریعے فنانسنگ کے وسائل متنوع بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت، ٹیکس اصلاحات اور مسلسل تین سال کے پرائمری سرپلس کا حوالہ بھی دیا۔ ملاقات میں پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کے حوالے سے تقریباً 21.6 ارب ڈالر کا سرکاری عدد پیش کیا گیا۔
دونوں جانب سے علاقائی تنازع کے توانائی، مہنگائی اور غذائی تحفظ پر ممکنہ اثرات بھی زیر بحث آئے۔ پاکستانی وفد نے موسم سرما کی طلب اور ضروری رسد برقرار رکھنے کے لیے حکومتی تیاریوں کا ذکر کیا۔ عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار رکھنے والے ملک کے بیرونی کھاتے اور قیمتوں کے استحکام کے لیے اہم عامل ہے، اسی لیے مالیاتی حکمت عملی کے ساتھ رسد کے خطرات پر بھی گفتگو کی گئی۔
وزیر خزانہ نے برآمدات پر مبنی نمو، آئی ٹی برآمدات میں اضافے، پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بہتر بنانے اور قرض کی پائیداری کو درمیانی مدت کی ترجیحات کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق ان اقدامات کا مقصد خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی سمت پیش رفت کو سہارا دینا ہے۔ ملاقات میں نجکاری، ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ، بوئنگ کے ساتھ رابطوں اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک سے ممکنہ فنانسنگ کے موضوعات بھی شامل تھے۔
یہ گفتگو کسی نئے قرض یا مالی پیکیج کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں تھی بلکہ پالیسی، اصلاحات اور ممکنہ فنانسنگ ذرائع پر تبادلہ خیال تھا۔ اے پی پی کے مطابق اورنگزیب نے پاکستان کے لیے امریکی تعاون کو سراہا۔ سالانہ اجلاسوں کے دوران پاکستان مختلف کثیرالجہتی اور دوطرفہ شراکت داروں کے ساتھ مالیاتی، ترقیاتی اور سرمایہ کاری امور پر رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
