اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں اشیائے ضروریہ کے ذخائر، رسد کے انتظامات اور مارکیٹ قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔ سرکاری بیان اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ملکی طلب پوری کرنے کے لیے ضروری اشیا کے مناسب ذخائر دستیاب ہیں، فوری قلت کا خدشہ نہیں اور قیمتوں میں استحکام کی علامات دیکھی جا رہی ہیں۔
اسحاق ڈار نے متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کو ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور مقررہ یا معمول کی مارکیٹ سطح سے غیر معمولی زائد قیمت وصول کرنے کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔ انہوں نے سپلائی چین اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی جاری رکھنے پر بھی زور دیا تاکہ صارفین کو رسد میں رکاوٹ یا غیر ضروری مہنگائی سے بچایا جا سکے۔ اجلاس وزیراعظم کی ہدایات کے تحت ضروری اشیا کی دستیابی اور قیمتوں کی نگرانی کے سلسلے کا حصہ تھا۔
کمیٹی کی توجہ ایسے وقت میں رسد اور قیمتوں پر مرکوز ہے جب خوراک اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں گھریلو بجٹ پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ حکومتی مؤقف کے مطابق موجودہ ذخائر طلب کے لیے کافی ہیں، تاہم یہ ایک انتظامی جائزہ ہے اور مختلف شہروں یا منڈیوں میں انفرادی اشیا کی قیمتیں رسد، نقل و حمل، مقامی طلب اور تھوک و پرچون کے فرق کی وجہ سے مختلف ہو سکتی ہیں۔
ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے خلاف کارروائی کے لیے مؤثر نفاذ اہم ہو گا، کیونکہ صرف مرکزی سطح پر ذخائر کی موجودگی صارف تک مناسب قیمت پر سامان پہنچنے کی ضمانت نہیں دیتی۔ متعلقہ حکام کو منڈیوں کی نگرانی، سپلائی میں رکاوٹ کی نشاندہی اور قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں قابل اطلاق ضوابط کے تحت کارروائی کرنا ہو گی۔ حکومت نے اس اجلاس میں کسی مخصوص تاجر یا کمپنی کے خلاف ثابت شدہ خلاف ورزی کا اعلان نہیں کیا؛ ہدایت عمومی طور پر نگرانی اور نفاذ سخت کرنے سے متعلق ہے۔
سرکاری پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی 16 اکتوبر کو کابینہ کمیٹی کی جانب سے ذخائر اور قیمتوں کے جائزے کی اطلاع جاری کی۔ اجلاس کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ ضروری اشیا کی دستیابی برقرار رکھی جائے، مصنوعی قلت پیدا نہ ہونے دی جائے اور قیمتوں کے غیر معمولی اضافے پر فوری انتظامی ردعمل دیا جائے۔ آئندہ ہفتوں میں اس پالیسی کی مؤثریت کا اندازہ مارکیٹ قیمتوں، رسد کی روانی اور متعلقہ اداروں کی عملی کارروائی سے ہو گا۔
