اسلام آباد: پاکستان میں حساس قیمت اشاریے کے ذریعے ناپی جانے والی قلیل مدتی مہنگائی تازہ ہفتے کے دوران ہفتہ وار بنیاد پر معمولی 0.04 فیصد کم ہوئی، تاہم سالانہ بنیاد پر شرح 11.38 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ڈان کے مطابق ہفتہ وار اشاریے میں معمولی کمی کے باوجود مہنگائی مسلسل کئی ہفتوں سے دو ہندسوں میں ہے، جس کی بڑی وجوہ میں خوراک اور پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتیں شامل ہیں۔
حساس قیمت اشاریہ روزمرہ استعمال کی منتخب ضروری اشیا کی قیمتوں میں مختصر مدت کی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہفتہ وار کمی اس بات کی علامت ہے کہ بعض اشیا کی قیمتوں میں عارضی نرمی آئی، لیکن سال بہ سال موازنہ اب بھی صارفین کے لیے نمایاں مہنگائی ظاہر کرتا ہے۔ مختلف خوراکی اور غیر خوراکی اشیا میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ نے مجموعی ہفتہ وار اشاریے کو تقریباً مستحکم رکھا۔
حالیہ مہینوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے نقل و حمل اور پیداواری لاگت کے ذریعے کئی اشیا کی قیمتوں پر بالواسطہ اثر ڈالا ہے۔ اسی طرح خوراکی اشیا کی قیمتیں گھریلو بجٹ پر براہ راست دباؤ ڈالتی ہیں، خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے لیے جن کے مجموعی اخراجات میں خوراک کا حصہ زیادہ ہوتا ہے۔
ہفتہ وار ایس پی آئی کو ماہانہ کنزیومر پرائس انڈیکس سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔ ایس پی آئی منتخب ضروری اشیا اور مختصر مدت کے رجحان کو تیزی سے ظاہر کرتا ہے، جبکہ سی پی آئی مجموعی صارف قیمتوں کا وسیع تر ماہانہ پیمانہ ہے۔ اس لیے 11.38 فیصد کی شرح کو پورے ماہ کی عمومی افراط زر کی شرح کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
تازہ اعداد اس وقت سامنے آئے ہیں جب حکومت اور مرکزی بینک قیمتوں، مالیاتی پالیسی اور معاشی سرگرمی کے درمیان توازن پر توجہ دے رہے ہیں۔ آئندہ ہفتوں میں ایندھن، زرعی رسد، درآمدی لاگت اور روپے کی قدر جیسے عوامل قلیل مدتی مہنگائی کی سمت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ایک ہفتے کی معمولی کمی کے باوجود سالانہ شرح کا دو ہندسوں میں رہنا ظاہر کرتا ہے کہ صارفین کے لیے قیمتوں کا دباؤ ابھی نمایاں طور پر ختم نہیں ہوا۔

