کراچی: پاکستان میں مقامی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور نوجوان سرمایہ کار نئے اکاؤنٹس کھولنے والوں کا بڑا حصہ بن رہے ہیں۔ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے اعداد کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کار اکاؤنٹس کی تعداد ریکارڈ 48 فیصد بڑھی۔

ایس ای سی پی کے مطابق مالی سال 2025-26 کے اختتام پر سرمایہ کار اکاؤنٹس 583,052 تک پہنچ گئے، جبکہ ایک سال پہلے یہ تعداد 392,775 تھی۔ یوں تقریباً 190,300 نئے اکاؤنٹس ایک سال میں کھولے گئے، جسے دستیاب اعداد میں سب سے بڑا سالانہ اضافہ قرار دیا گیا ہے۔

عمر کے اعتبار سے بھی نئے سرمایہ کاروں میں نوجوانوں کا حصہ نمایاں رہا۔ جنوری سے جون 2026 کے دوران کھولے گئے نئے اکاؤنٹس میں 45 فیصد افراد کی عمر 18 سے 30 سال تھی، جبکہ 31 سے 45 سال کے افراد نے مزید 41 فیصد نئے اکاؤنٹس کھولے۔ اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ روایتی بچت کے طریقوں کے ساتھ رسمی مالیاتی منڈیوں میں براہ راست شرکت بڑھ رہی ہے۔

مالی سال 2025-26 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے روپے میں 44 فیصد اور امریکی ڈالر کے لحاظ سے 46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ مالیاتی شعبے کے ماہر ابراہیم امین نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، بروکریج ہاؤسز کی موبائل ایپلی کیشنز اور آن لائن پلیٹ فارمز نے خاص طور پر نوجوانوں کے لیے مارکیٹ تک رسائی آسان کی ہے۔ ان کے مطابق ریگولیٹری سہولت اور ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھولنے کے طریقوں نے بھی شرکت بڑھانے میں کردار ادا کیا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کی بڑی فری لانس اور ڈیجیٹل ورک فورس مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کی مصنوعات میں مزید دلچسپی لے سکتی ہے۔ تاہم عالمی حصص، ڈیجیٹل اثاثوں اور ٹوکنائزڈ سرمایہ کاری جیسی مصنوعات میں خطرات، ضابطہ کاری اور قیمتوں کے شدید اتار چڑھاؤ کے عوامل مختلف ہو سکتے ہیں؛ کسی پلیٹ فارم یا اثاثے کی دستیابی کو محفوظ یا منافع بخش سرمایہ کاری کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔

پاکستانی حکام سرمایہ کاری کے ماحول اور مالیاتی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ نئے اکاؤنٹس میں اضافہ مالیاتی شمولیت کے لیے مثبت اشارہ ہو سکتا ہے، لیکن سرمایہ کاروں کے تحفظ، مالیاتی خواندگی اور خطرات کے بارے میں واضح آگاہی بھی اسی رفتار سے ضروری ہوگی۔ تازہ اعداد سرمایہ کار اکاؤنٹس کی تعداد بتاتے ہیں، ان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ہر اکاؤنٹ فعال ہے یا تمام نئے سرمایہ کار منافع کما رہے ہیں۔