اسلام آباد: پاکستان اور ایران نے اسلام آباد میں 12ویں دوطرفہ سیاسی مشاورت کے دوران تجارت، اقتصادی تعاون، سرحدی امور اور علاقائی امن و استحکام سمیت باہمی تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا اور روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ جبکہ ایرانی وفد کی قیادت ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور مجید تخت روانچی نے کی۔
وزارت خارجہ پاکستان کی جاری کردہ معلومات کے مطابق مذاکرات میں دونوں ملکوں نے دوطرفہ تعلقات کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا۔ بات چیت میں اعلیٰ سطح کے رابطوں، تجارت و سرمایہ کاری، توانائی، رابطہ کاری، سرحدی تعاون اور عوامی روابط جیسے موضوعات شامل رہے۔ دونوں جانب سے موجودہ ادارہ جاتی رابطوں کو استعمال کرتے ہوئے تعاون کو مزید عملی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
پاکستان اور ایران طویل سرحد، تجارتی روابط اور علاقائی سلامتی کے مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں قانونی تجارت اور آمدورفت بڑھانے کے ساتھ سلامتی کے مسائل سے نمٹنا دونوں حکومتوں کے لیے اہم پالیسی شعبے ہیں۔ سیاسی مشاورت کا یہ دور انہی معاملات پر سفارتی سطح پر باقاعدہ رابطے کا حصہ ہے، نہ کہ کسی ایک نئے معاہدے یا حتمی تجارتی ہدف کا اعلان۔
دونوں وفود نے خطے اور عالمی سطح کی پیش رفت پر بھی گفتگو کی۔ پاکستان نے علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔ ایران کے ساتھ تعلقات میں تجارت اور سرحدی انتظام کے علاوہ توانائی اور رابطہ کاری کے امکانات بھی طویل عرصے سے زیر بحث رہے ہیں، تاہم کسی مخصوص منصوبے کی پیش رفت کو متعلقہ باضابطہ فیصلوں اور عملی اقدامات سے الگ جانچنا ضروری ہے۔
12ویں دوطرفہ سیاسی مشاورت کا بنیادی نتیجہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطے جاری رکھنے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی مشترکہ خواہش کا اعادہ ہے۔ ایسے مذاکرات پالیسی ہم آہنگی اور زیر التوا معاملات پر رابطہ برقرار رکھنے کا ادارہ جاتی ذریعہ ہوتے ہیں، جبکہ تجارت، توانائی یا سرحدی منصوبوں میں قابل پیمائش پیش رفت آئندہ معاہدوں، نفاذ اور سرکاری اعداد و شمار سے واضح ہوگی۔

