اسلام آباد: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ پاک ایران سرحد کی بندش ملک میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق حکومت اب سمندری راستے اور دیگر بیرونی ذرائع سے ایل پی جی حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ رسد میں پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
وزیر نے یہ بیان قومی اسمبلی میں ایل پی جی کی بڑھتی قیمتوں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں دیا۔ نوٹس عالیہ کامران، شاہدہ بیگم اور نعیمہ کشور خان نے پیش کیا تھا۔ اراکین نے خصوصاً دور دراز اور شمالی علاقوں میں صارفین کو درپیش صورتحال کی نشاندہی کی، جہاں ان کے مطابق ایل پی جی بعض مقامات پر 700 سے 800 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، جبکہ اوگرا کی مقرر کردہ سرکاری قیمت 280 روپے فی کلو بتائی گئی۔
علی پرویز ملک نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان کی درآمدی ایل پی جی کا تقریباً 50 سے 60 فیصد حصہ ایران سے آتا رہا ہے، جبکہ باقی ضرورت کا ایک حصہ قطر سے پورا کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق خطے کی جنگی صورتحال کے باعث قطر سے ایل پی جی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ حکومت نے اسی لیے درآمدی نظام کا ازسرنو جائزہ شروع کیا ہے اور متبادل ممالک اور راستوں سے سپلائی کے امکانات دیکھے جا رہے ہیں۔
ایل پی جی ان علاقوں میں خاص طور پر اہم ایندھن ہے جہاں پائپ لائن گیس دستیاب نہیں۔ سردیوں میں گھریلو حرارت اور کھانا پکانے کی ضرورت بڑھنے سے اس کی طلب بھی بڑھتی ہے، اس لیے رسد میں رکاوٹ قیمتوں پر تیزی سے اثر انداز ہو سکتی ہے۔ وزیر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اوگرا کی مقررہ قیمت اور بعض مقامی مارکیٹوں میں صارفین سے وصول کی جانے والی قیمت کے درمیان بڑا فرق موجود ہے۔
حکومت کی جانب سے متبادل سپلائی کا جائزہ ایک پالیسی ردعمل ہے، لیکن فوری طور پر کسی نئے درآمدی معاہدے، اضافی مقدار یا قیمت میں کمی کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے صارفین پر عملی اثر کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئی سپلائی کتنی جلد دستیاب ہوتی ہے اور سرکاری قیمت کے نفاذ کے لیے نگرانی کس حد تک مؤثر بنائی جاتی ہے۔
