اسلام آباد: وفاقی حکومت اور صوبائی حکام نے گندم کی آئندہ فصل کے لیے امدادی قیمت کے تعین پر مشاورت تیز کر دی ہے تاکہ بوائی اور خریداری کے موسم سے پہلے کسانوں کو قیمت سے متعلق واضح پالیسی اشارہ دیا جا سکے۔ بات چیت کا مقصد ایسا قابل عمل نرخ طے کرنا ہے جو پیداواری لاگت، ملکی ضرورت، منڈی کی صورتحال اور سرکاری مالی گنجائش کو سامنے رکھتے ہوئے صوبوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کرے۔

گندم پاکستان کی بنیادی غذائی فصل ہے اور اس کی قیمت کا اثر صرف کاشتکاروں کی آمدن تک محدود نہیں رہتا بلکہ آٹے کی قیمت، خوراک کی مہنگائی، سرکاری خریداری اور ذخیرہ اندوزی کے فیصلوں پر بھی پڑتا ہے۔ اسی لیے امدادی یا حوالہ جاتی قیمت کے تعین میں حکومت کو کسان کے لیے مناسب منافع اور صارف کے لیے قابل برداشت قیمت کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔

حالیہ مشاورت میں وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک مشترکہ پالیسی موقف کی اہمیت نمایاں ہے۔ ماضی میں مختلف صوبائی فیصلوں یا خریداری کے الگ طریقہ کار سے منڈی میں قیمتوں کے فرق اور فصل کی نقل و حرکت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ مشترکہ نرخ یا مربوط حکمت عملی کا مقصد ایسی بے یقینی کو کم کرنا اور کاشتکاروں کو بوائی سے پہلے بہتر فیصلہ سازی کا موقع دینا ہے۔

قیمت طے کرتے وقت بیج، کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل، بجلی، آبپاشی اور مزدوری سمیت پیداواری اخراجات اہم عوامل ہیں۔ دوسری طرف حکومت کو گندم اور آٹے کی صارف قیمت، ذخائر، درآمد و برآمد کی صورتحال اور سرکاری خریداری کے مالی اثرات بھی دیکھنا ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک عنصر کی بنیاد پر نرخ مقرر کرنے کے بجائے متعدد معاشی اور زرعی اشاریوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

موجودہ مرحلے پر معاملہ مشاورت اور قیمت طے کرنے کے عمل سے متعلق ہے۔ جب تک متعلقہ حکومتیں باضابطہ نوٹیفکیشن یا حتمی فیصلہ جاری نہ کریں، زیر بحث نرخوں کو حتمی امدادی قیمت تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ کسانوں کے لیے اصل پالیسی وضاحت اسی وقت آئے گی جب قیمت، خریداری کے طریقہ کار، معیار اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کا باقاعدہ اعلان ہوگا۔

آئندہ گندم فصل کے لیے بروقت فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ کسان فصلوں کے انتخاب، رقبے اور ان پٹ کے استعمال کے فیصلے متوقع آمدن کو دیکھتے ہوئے کرتے ہیں۔ اگر وفاق اور صوبے جلد مشترکہ پالیسی پر پہنچ جاتے ہیں تو اس سے بوائی کے مرحلے میں غیر یقینی کم ہو سکتی ہے، تاہم اس کے عملی نتائج کا انحصار حتمی نرخ، سرکاری خریداری کی حکمت عملی اور منڈی میں اس کے نفاذ پر ہوگا۔