اسلام آباد: پاکستان اور ایتھوپیا نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے کے لیے مالی اور بینکاری روابط مضبوط بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب اور پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا کے درمیان ملاقات میں سامنے آئی۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق بات چیت میں اقتصادی و مالی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ کاری کے مختلف پہلو زیر غور آئے۔

ایتھوپیا کے سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے بینکاری شعبوں کے درمیان زیادہ قریبی تعاون سے تجارتی اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو سہولت مل سکتی ہے۔ فریقین نے مالی رابطہ کاری بہتر بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا، تاہم ملاقات کے بعد کسی مخصوص بینکنگ معاہدے، نئی ادائیگی سہولت یا مالیاتی نظام کے آغاز کا اعلان نہیں کیا گیا۔ موجودہ پیش رفت تعاون کے دائرے اور مستقبل کی مشاورت سے متعلق ہے۔

وزیر خزانہ نے ایتھوپیائی وفد کو پاکستان میں جاری معاشی اصلاحات کے بارے میں آگاہ کیا، جن کا مقصد دیرپا معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کی بنیاد پر پائیدار نمو کے لیے ماحول بہتر بنانا ہے۔ دونوں جانب سے پاکستان اور ایتھوپیا کے ترقیاتی تجربات کا بھی جائزہ لیا گیا اور ان کی معیشتوں میں بعض ساختی مماثلتوں کے تناظر میں تجربات کے تبادلے کی گنجائش پر بات ہوئی۔

ملاقات میں عالمی اور علاقائی تنازعات کے توانائی، کھاد اور خوراک کی فراہمی پر اثرات بھی زیر بحث آئے۔ فریقین نے نوٹ کیا کہ توانائی اور کھاد کی سپلائی چین میں رکاوٹیں زرعی پیداوار اور عمومی اقتصادی سرگرمی کو متاثر کر سکتی ہیں، اس لیے بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے تیاری اور تعاون اہم ہے۔ یہ گفتگو ایسے وقت ہوئی ہے جب عالمی توانائی منڈی اور نقل و حمل کے راستوں میں غیر یقینی صورت حال کئی درآمدی معیشتوں کے لیے لاگت اور رسد کے خطرات بڑھا رہی ہے۔

پاکستان اور ایتھوپیا نے فضائی رابطوں کے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ممالک کے حکام کے مطابق بہتر ایئر کنیکٹیویٹی تجارتی سرگرمی، کاروباری سفر اور عوامی روابط بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ملاقات میں کسی نئی پرواز یا روٹ کے فوری آغاز کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا، تاہم اسے وسیع تر اقتصادی رابطہ کاری کے ایک اہم حصے کے طور پر زیر بحث لایا گیا۔

محمد اورنگزیب نے ایتھوپیا کے ساتھ اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے میں پاکستان کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے تجارت، سرمایہ کاری، مالی تعاون اور اقتصادی رابطوں کے شعبوں میں بات چیت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس مرحلے پر پیش رفت بنیادی طور پر پالیسی سطح کی مشاورت ہے اور عملی تجارتی یا بینکاری اقدامات کی تفصیلات آئندہ رابطوں میں سامنے آنے کی توقع ہے۔