اسلام آباد: پاکستان اور ایران نے مشترکہ سرحد پر قانونی تجارت بڑھانے، کسٹمز کے عمل کو بہتر بنانے اور سرحدی علاقوں میں معاشی سرگرمی کے لیے نئی تجارتی گزرگاہوں اور سہولتوں پر کام تیز کیا ہے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے متعلقہ حکام سرحدی تجارت کو زیادہ منظم بنانے اور موجودہ راستوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے انتظامی اور بنیادی ڈھانچے کے اقدامات آگے بڑھا رہے ہیں۔

پاکستان اور ایران کے درمیان طویل زمینی سرحد بلوچستان سے ملتی ہے، جہاں مقامی آبادی کی معیشت کا ایک حصہ سرحد پار تجارت اور نقل و حمل سے وابستہ ہے۔ نئی یا بہتر بنائی جانے والی کراسنگز کا بنیادی مقصد دستاویزی تجارت کو سہولت دینا، سامان کی کلیئرنس کا وقت کم کرنا اور کاروباری افراد کو باقاعدہ چینلز کے ذریعے لین دین کی ترغیب دینا ہے۔

دونوں ممالک حالیہ برسوں میں دوطرفہ تجارت بڑھانے کے اہداف کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ اس تناظر میں بارڈر مارکیٹس، کسٹمز تعاون، نقل و حمل کے رابطوں اور سرحدی پوائنٹس کی استعداد میں اضافہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم تجارتی حجم میں عملی اضافہ صرف گزرگاہ کھولنے سے نہیں بلکہ بینکاری، ادائیگیوں، پابندیوں سے متعلق ضابطوں، سکیورٹی انتظامات اور کسٹمز کے مؤثر نظام سے بھی منسلک ہوگا۔

سرحدی تجارت بلوچستان کے دور دراز اضلاع کے لیے روزگار اور ضروری اشیا کی فراہمی کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ حکام کی کوشش ہے کہ غیر رسمی نقل و حرکت کے بجائے قانونی اور دستاویزی تجارت کا حصہ بڑھایا جائے۔ نئی سہولتوں کے مکمل آپریشنل ہونے، ان کے اوقات کار اور مخصوص تجارتی طریقہ کار سے متعلق تفصیلات متعلقہ حکام کی عملی ہدایات کے مطابق طے ہوں گی۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو دوطرفہ تجارتی انفراسٹرکچر میں توسیع کا مرحلہ سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ تمام سرحدی تجارتی رکاوٹوں کے فوری خاتمے کا اعلان۔