میڈیا واچ ڈاگ فریڈم نیٹ ورک کی ایک نئی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے خصوصی قوانین اس وقت تک مکمل طور پر مؤثر نہیں ہو سکتے جب تک وفاقی اور صوبائی سیفٹی کمیشنوں کو مناسب وسائل، قابلِ رسائی شکایتی نظام اور بروقت تحفظ فراہم کرنے کی عملی صلاحیت نہ دی جائے۔ رپورٹ میں قانونی فریم ورک کے ساتھ ادارہ جاتی عمل درآمد کو بنیادی مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔

’فرام سیفٹی آن پیپر ٹو سیفٹی اِن پریکٹس‘ کے عنوان سے رپورٹ میں وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے قائم کردہ دو کمیشنوں کی کارکردگی اور عملی رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق فریڈم نیٹ ورک نے انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ کی معاونت سے تیار کی، جبکہ اس میں متعلقہ فریقوں سے مشاورت، انٹرویوز اور سندھ میں تقریباً 40 ورکنگ صحافیوں کے آن لائن بنیادی سروے سے حاصل معلومات استعمال کی گئیں۔

سروے میں شامل 65 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ انہیں 2021 کے بعد کام سے متعلق دھمکی یا مداخلت کا سامنا ہوا۔ رپورٹ کے مطابق 70 فیصد شرکا صوبائی تحفظ قانون کے وجود سے واقف تھے، لیکن 65 فیصد کو یہ معلوم نہیں تھا کہ کمیشن کا دفتر کہاں ہے، معلومات یا ویب سائٹ کیسے حاصل کی جائے یا شکایت کس راستے سے درج کرائی جائے۔ یہ اعداد صرف سروے میں شامل محدود گروپ کی صورتحال بیان کرتے ہیں اور انہیں پورے سندھ یا پاکستان کی شرح نہیں سمجھا جا سکتا۔

وفاقی کمیشن کے چیئرمین کمال الدین ٹیپو نے تحقیق کے دوران عملے، بجٹ اور انتظامی مسائل کا ذکر کیا۔ سندھ میں کمیشن کے پاس دفتر، اجلاس اور شکایات کا نظام موجود ہے، تاہم بعض یونین نمائندوں اور غیر سرکاری ارکان نے ردعمل میں تاخیر، کراچی سے باہر محدود رسائی اور پولیس کے جوابات پر انحصار جیسے مسائل کی نشاندہی کی۔ سندھ کمیشن کے چیئرمین اعجاز احمد میمن نے صحافیوں کے اعتماد سے متعلق بعض خدشات سے اختلاف کیا اور رابطہ کاری، کیس سرگرمی اور آؤٹ ریچ میں بہتری کا مؤقف پیش کیا۔

رپورٹ نے میڈیا اداروں کی ذمہ داریوں کو بھی نمایاں کیا۔ سروے کے 51 فیصد شرکا نے کہا کہ ان کے آجر نے انہیں حفاظتی طریقۂ کار، ہنگامی رابطوں، انشورنس، قانونی مدد یا شکایتی نظام کے بارے میں آگاہ نہیں کیا۔ رپورٹ میں خفیہ اور آسان شکایتی راستوں، فوری خطرے کے جائزے، مخصوص کیس ورکرز، پولیس تک معاملہ بڑھانے کے واضح طریقۂ کار اور نتائج و اخراجات کی گمنام شکل میں اشاعت کی سفارش کی گئی ہے۔

فریڈم نیٹ ورک نے حکومتوں، کمیشنوں، پولیس، میڈیا مالکان اور صحافی تنظیموں کے درمیان مربوط کارروائی پر زور دیا ہے۔ رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ قانون سازی کے بعد اگلا مرحلہ ایسے ادارہ جاتی انتظامات بنانا ہے جن کے ذریعے خطرے میں موجود صحافی فوری، قابلِ اعتماد اور قابلِ پیروی مدد حاصل کر سکیں۔