اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی احتساب بیورو کے ڈپٹی چیئرمین احتشام قادر شاہ اور پراسیکیوٹر جنرل سہیل ناصر کی تقرریوں کو چیلنج کرنے والی درخواست پر نیب، وزارت قانون اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے ساتھ ہی درخواست گزار کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اس مؤقف کے حق میں دستاویزی ثبوت پیش کرے کہ دونوں عہدیدار متعلقہ قانونی شرائط پوری نہیں کرتے۔
جسٹس عمیر مجید ملک نے ایڈووکیٹ ڈاکٹر جی ایم چوہدری کی دائر کردہ کو وارنٹو نوعیت کی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیب کے ڈپٹی چیئرمین احتشام قادر شاہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 7(aa) میں مقرر کردہ اہلیت پر پورا نہیں اترتے۔ درخواست گزار کے مطابق ان کی سابقہ حیثیت بطور نیب پراسیکیوٹر جنرل مطلوبہ وفاقی سرکاری عہدے یا اس کے مساوی معیار کو پورا نہیں کرتی۔
پراسیکیوٹر جنرل سہیل ناصر کے بارے میں درخواست گزار نے استدلال کیا کہ قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 8(a) کے تحت اس عہدے کے لیے سپریم کورٹ کا جج مقرر ہونے کی اہلیت درکار ہے۔ درخواست میں ان کی سابق عدالتی سروس اور لاہور ہائیکورٹ میں بطور اضافی جج خدمات کے تناظر میں قانونی اہلیت پر سوال اٹھایا گیا۔ یہ تمام نکات درخواست گزار کے دعوے ہیں اور عدالت نے ابھی ان کی قانونی صحت پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے بعض دلائل پر سوالات اٹھائے اور واضح کیا کہ محض دعویٰ کافی نہیں، بلکہ متعلقہ تقرریوں کی قانونی اہلیت کے خلاف قابلِ اعتماد دستاویزی مواد پیش کرنا ہوگا۔ عدالت نے ان متفرق درخواستوں پر بھی نوٹس جاری کیے جن میں دونوں عہدیداروں کو فرائض انجام دینے سے روکنے اور ان کی تقرریوں کا ریکارڈ طلب کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
یہ کارروائی تقرریوں کو کالعدم قرار دینے کا حکم نہیں بلکہ عدالتی جانچ کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ نیب، وزارت قانون اور دیگر فریقوں کو اپنا جواب اور متعلقہ ریکارڈ پیش کرنے کا موقع ملے گا، جبکہ درخواست گزار پر بھی اپنے اعتراضات ثابت کرنے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔
آئندہ سماعتوں میں عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ قومی احتساب آرڈیننس اور آئینی شرائط کا اطلاق ان تقرریوں پر کس طرح ہوتا ہے اور آیا دستیاب سرکاری ریکارڈ درخواست میں اٹھائے گئے اعتراضات کی تائید کرتا ہے یا نہیں۔ حتمی قانونی حیثیت عدالت کے تفصیلی جائزے اور فریقین کے دلائل کے بعد ہی طے ہوگی۔

