سپریم کورٹ نے سرکاری اداروں کو ملازمین کے سروس معاملات میں غیر ضروری اور بار بار مقدمہ بازی سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں قانونی پوزیشن پہلے ہی عدالتی فیصلوں سے واضح ہو چکی ہو وہاں محکموں کو شکایات انتظامی سطح پر حل کرنی چاہییں۔ جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے پاکستان ریلوے کے ملازمین کی ترقی اور سنیارٹی سے متعلق تنازع میں فیڈرل سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم کر دیا۔
سات صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ کسی سرکاری محکمے کو مسلسل مقدمہ باز ادارے کے طور پر کام نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ انتظامی بے عملی سے طے شدہ تنازعات دوبارہ عدالتوں میں آتے ہیں، ملازمین طویل غیر یقینی کا شکار رہتے ہیں اور سرکاری وسائل کے ساتھ عدالتی وقت بھی صرف ہوتا ہے۔ عدالت کے مطابق ایک عوامی ادارے کی حیثیت سے پاکستان ریلوے پر ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے افسران کے ساتھ ایک مثالی آجر کا رویہ اختیار کرے۔
مقدمے کا پس منظر ریلوے میں سنیارٹی کے اس طریقۂ کار سے متعلق تھا جس میں ابتدائی بھرتی کے وقت سی ایس ایس امتحان کے میرٹ کو بنیاد بنایا جاتا رہا۔ فیصلے کے مطابق یہ طریقہ کئی دہائیوں میں ایک مستحکم محکمانہ روایت بن گیا اور ماضی میں عدالتی توثیق بھی حاصل کر چکا تھا۔ عدالت نے کہا کہ جب کوئی انتظامی طریقہ بار بار عدالتی جانچ سے گزر کر برقرار رہ چکا ہو تو متعلقہ ادارے کو اسی قانونی پوزیشن کو اپنے اندرونی فیصلوں میں لاگو کرنا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ذمہ داری صرف محکموں پر نہیں بلکہ سرکاری ملازمین پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ایسے ملازمین جو ایک قائم شدہ نظام کے تحت ملازمت میں آئے، پروبیشن مکمل کیا اور باقاعدہ ترقی پاتے رہے، وہ بعد میں محض ذاتی فائدے کے لیے قواعد کی مختلف تشریح کی بنیاد پر پورے فریم ورک کو الٹنے کی کوشش نہیں کر سکتے۔
عدالت نے ریلوے کی جانب سے ملازمین کی نمائندگیوں پر بروقت فیصلہ نہ کرنے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس خاموشی نے ایسے مقدمے کو دوبارہ عدالتی فورم تک پہنچایا جسے انتظامی سطح پر حل کیا جا سکتا تھا۔ فیصلے میں بروقت داخلی فیصلہ سازی کو اچھی حکمرانی، سرکاری اخراجات میں کمی اور عدالتی وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔
یہ فیصلہ کسی عمومی پابندی کے بجائے سرکاری اداروں اور ملازمین دونوں کے لیے انتظامی ذمہ داری کے اصول واضح کرتا ہے۔ اس کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ طے شدہ قانون پر مستقل عمل کیا جائے، شکایات کو بلاوجہ لٹکایا نہ جائے اور ذاتی مفاد کے لیے مستحکم سروس ڈھانچے کو غیر ضروری قانونی تنازع میں تبدیل نہ کیا جائے۔

