اسلام آباد: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے قازقستان کے شہر الماتی میں پاکستان-قازقستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کو وسطی ایشیائی ممالک کے لیے اہم اسٹریٹجک تجارتی دروازوں کے طور پر پیش کیا ہے۔ 2 نومبر کو سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق انہوں نے قازق سرمایہ کاروں کو پاکستان میں توانائی، بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ اور تجارت کے شعبوں میں مواقع کا جائزہ لینے کی دعوت دی۔

وزیر نے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب اور عالمی سمندری راستوں تک رسائی دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق کراچی اور گوادر کی بندرگاہیں قازقستان سمیت خشکی میں گھرے وسطی ایشیائی ممالک کے لیے جنوبی سمت میں تجارتی روابط بڑھانے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس تصور کا عملی فائدہ سڑک، ریل، کسٹمز اور سرحد پار ٹرانزٹ انتظامات کی کارکردگی سے وابستہ ہوگا۔

بزنس فورم میں دونوں ممالک کے سرکاری اور کاروباری نمائندوں نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات پر گفتگو کی۔ پاکستانی وفد نے ملک کی منڈی، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور بندرگاہی سہولتوں کو علاقائی رابطہ کاری کے تناظر میں اجاگر کیا۔ عبدالعلیم خان نے نجی شعبے کے درمیان براہ راست روابط بڑھانے اور مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی پر بھی زور دیا۔

پاکستان حالیہ برسوں میں وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ زمینی اور سمندری تجارت کے راستوں کو اپنی علاقائی اقتصادی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتا رہا ہے۔ قازقستان کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے ٹرانزٹ سہولت، کاروباری وفود اور نقل و حمل کے رابطوں پر بات چیت اسی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے۔ تاہم فورم میں پیش کی گئی تجاویز کو عملی تجارتی حجم میں بدلنے کے لیے مستقل لاجسٹک روابط، مسابقتی لاگت اور قابل اعتماد سرحدی طریقہ کار بنیادی عوامل ہوں گے۔

فورم میں دی گئی سرمایہ کاری کی دعوت کسی ایک نئے منصوبے کی حتمی منظوری یا سرمایہ کاری معاہدے کا اعلان نہیں تھی۔ یہ پاکستان کی جانب سے قازق کاروباری برادری کے سامنے دستیاب شعبوں اور بندرگاہی رسائی کی پیشکش تھی، جس کے نتائج آئندہ کاروباری معاہدوں اور سرکاری سطح پر طے ہونے والے رابطہ منصوبوں سے واضح ہوں گے۔