صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافین سے ایوانِ صدر میں الوداعی ملاقات کی اور دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے میں ان کی پانچ سالہ خدمات کو سراہا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی سرکاری ملاقات پر مبنی رپورٹ کے مطابق گفتگو کا مرکزی نکتہ سیاسی خیرسگالی کو تجارت، سرمایہ کاری اور عملی رابطوں میں تبدیل کرنا تھا۔ یہ الوداعی سفارتی ملاقات تھی، کسی نئے معاہدے پر دستخط یا فوری مالی منصوبے کی منظوری کا اعلان نہیں ہوا۔

صدر نے فروری 2026 میں قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف کے دورۂ پاکستان کو دوطرفہ تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ 23 برس بعد کسی قازق صدر کا پاکستان کا دورہ تھا اور اس کے نتیجے میں تعلقات کو تزویراتی شراکت داری کی سطح تک لے جانے کا اعلان کیا گیا۔ موجودہ ملاقات میں زور اس بات پر رہا کہ پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشتوں اور سمجھوتوں کو قابلِ پیمائش منصوبوں میں بدلا جائے۔

ایوانِ صدر کے بیان میں دو سال کے اندر دوطرفہ تجارت ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف دہرایا گیا۔ صدر نے زراعت، توانائی، کان کنی و معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ادویات، ٹیکسٹائل اور دفاعی پیداوار کو تعاون کے ممکنہ شعبے بتایا۔ ایک ارب ڈالر کا عدد ہدف ہے، موجودہ تجارتی حجم یا حتمی معاہدہ نہیں؛ اس لیے اردو ہیڈ لائنز اسے حاصل شدہ نتیجے کے طور پر پیش نہیں کر رہا۔

ملاقات میں سڑک، ریل، فضائی اور سمندری رابطوں کو تجارت بڑھانے کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔ قازق سفیر نے بتایا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ ریلوے رابطہ قائم کرنے پر کام کر رہا ہے اور تجارت، نقل و حمل، توانائی، زراعت، آئی ٹی اور تعلیم کے چھ شعبہ جاتی ورکنگ گروپ فعال ہیں۔ ان گروپوں کے منصوبوں، اخراجات اور تکمیل کی تاریخوں کی مکمل تفصیل موجودہ رپورٹ میں نہیں دی گئی۔

صدر نے پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے قازقستان کی دس لاکھ ڈالر گرانٹ اور گوجرانوالہ میں پہلے قازقستان–پاکستان مصنوعی ذہانت مرکز کے قیام کا بھی ذکر کیا۔ سفیر کے مطابق تقریباً ایک ہزار پاکستانی طلبہ قازق جامعات میں زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ پاکستانی آم، امرود، فالسہ اور دیگر گرم خطوں کے پھل قازق منڈی میں جگہ بنا سکتے ہیں۔ یہ امکانات ہیں؛ برآمدی معاہدوں یا نئی داخلہ اسکیموں کی الگ تصدیق درکار ہوگی۔

دونوں ملکوں کے لیے اگلا عملی مرحلہ ورکنگ گروپوں کے فیصلوں، نقل و حمل کے منصوبوں اور تجارتی اہداف کی تحریری پیش رفت سامنے لانا ہے۔ اردو ہیڈ لائنز سرکاری معاہدوں کے نفاذ، ریلوے رابطے کی قابلِ تصدیق ٹائم لائن یا دوطرفہ تجارت کے تازہ اعداد جاری ہونے پر رپورٹ کو اپ ڈیٹ کرے گا۔ فی الحال خبر الوداعی ملاقات میں بیان کردہ ترجیحات اور موجودہ سفارتی تعاون تک محدود ہے۔