اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان کی مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کو زیادہ گہرا، شفاف اور فعال بنانے کے لیے ایک اسٹریٹجک ایکشن پلان جاری کیا ہے۔ منصوبے کے تحت اہل بینک صارفین کو اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ سرکاری سیکیورٹیز، جن میں ٹریژری بلز اور بانڈز شامل ہیں، اپنے بینکوں کے ذریعے خریدنے اور فروخت کرنے کی سہولت دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

یہ منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ٹیم اقتصادی پروگرام کے جائزے کے لیے موجود ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کے اس منصوبے کا اعلان 30 ستمبر تک کرنا آئی ایم ایف پروگرام کے تحت طے شدہ اقدام تھا۔ منصوبہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی مشترکہ تشخیصی رپورٹ کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔

حکومتی دستاویز کے مطابق اس وقت کمرشل بینک سرکاری سیکیورٹیز کا بڑا حصہ اپنے پاس رکھتے ہیں، جس کے باعث مارکیٹ میں ثانوی تجارت محدود رہتی ہے۔ منصوبے کا مقصد سرمایہ کاروں کی بنیاد وسیع کرنا، سرکاری قرضوں کی خرید و فروخت میں روانی پیدا کرنا اور وقت کے ساتھ نجی شعبے کے لیے بھی روپے میں طویل مدتی فنانسنگ کے بہتر مواقع پیدا کرنا ہے۔

ایکشن پلان میں بنیادی اجرا کے نظام کو زیادہ پیش گوئی کے قابل اور مارکیٹ پر مبنی بنانے، ثانوی مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بڑھانے، ریپو اور سیکیورٹیز فنانسنگ کے ڈھانچے کو بہتر کرنے اور قانونی و ٹیکس رکاوٹوں کو کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ ادارہ جاتی، ریٹیل اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھے تاکہ سرکاری قرض کی منڈی چند بڑے خریداروں تک محدود نہ رہے۔

منصوبے کے تحت اسٹیٹ بینک، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور سینٹرل ڈپازٹری کمپنی نگرانی اور مارکیٹ انفراسٹرکچر کے مختلف حصوں میں کردار ادا کریں گے۔ وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک پرائمری ڈیلر فریم ورک کا بھی جائزہ لیں گے تاکہ ثانوی مارکیٹ میں کارکردگی کو آئندہ مالی سال کے انتظامات میں زیادہ اہمیت دی جا سکے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ایک زیادہ فعال بانڈ مارکیٹ درمیانی مدت میں سرکاری فنانسنگ کی لاگت اور خطرات کم کرنے، مانیٹری پالیسی کی منتقلی بہتر بنانے اور نجی شعبے کے لیے ایک معتبر بینچ مارک ییلڈ کرو فراہم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم عملی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ طے شدہ اصلاحات کس رفتار سے نافذ ہوتی ہیں اور سرمایہ کاروں کی شرکت واقعی کس حد تک بڑھتی ہے۔

اسی دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان جاری مذاکرات میں پاور سیکٹر، نجکاری، پٹرولیم، ایف بی آر اور دیگر اصلاحاتی شعبوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جائزہ کامیابی سے مکمل ہونے کی صورت میں پاکستان کو آئی ایم ایف کے دو پروگراموں کے تحت تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسطیں ملنے کی توقع ہے، تاہم اس کا حتمی فیصلہ آئی ایم ایف کے طریقہ کار اور ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔