اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کو جوائنٹ وار کمیٹی کی متعلقہ فہرست سے نکالے جانے کے بعد ملکی بحری تجارت پر اضافی انشورنس اخراجات میں کمی کی توقع ہے۔ انہوں نے یہ بات پاکستان کے بحری مستقبل، میری ٹائم سکیورٹی، اوشن گورننس اور بلیو اکانومی کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وفاقی وزیر کے مطابق فہرست سے اخراج سے تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کی تجارتی سرگرمی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ جنگی خطرات سے متعلق درجہ بندی بحری جہازوں اور کارگو کے لیے انشورنس پریمیم اور اضافی شرائط پر اثر انداز ہو سکتی ہے، اس لیے خطرے کی درجہ بندی میں بہتری سے شپنگ کی لاگت پر دباؤ کم ہونے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ تاہم اصل پریمیم میں کمی کی مقدار انشورنس کمپنیوں، روٹس، جہازوں، کارگو اور علاقائی خطرات کے الگ الگ جائزوں پر منحصر ہوگی۔

جنید انوار چوہدری نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے ماحول میں محفوظ سمندری راستے معاشی استحکام کے لیے اہم ہیں۔ ان کے مطابق وزارت بحری امور بندرگاہوں کی کارکردگی بہتر بنانے، قومی مرچنٹ فلیٹ بڑھانے، تجارت میں سہولت اور سرمایہ کاری لانے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ نے دو ہزار سے زیادہ جہازوں کی نقل و حرکت سنبھالی، جبکہ پورٹ چارجز، نیلامی کے طریقہ کار، ریفریجریٹڈ کارگو اور کلیئرنس کے شعبوں میں اصلاحات کی گئی ہیں۔

وزیر نے بحری شعبے میں مجوزہ سرمایہ کاری منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق پورٹ قاسم پر تقریباً 680 ملین ڈالر کے اسٹیل منصوبے، 1.4 ارب ڈالر کے مربوط میری ٹائم صنعتی کمپلیکس اور تقریباً 350 ملین ڈالر کے کثیر المقاصد ٹرمینل سمیت مختلف تجاویز زیر غور یا پیش رفت میں ہیں۔ ان اعداد کو مجوزہ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، مکمل شدہ سرمایہ کاری یا حتمی مالی بندوبست کے طور پر نہیں۔

حکومت پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے بیڑے میں توسیع کے ساتھ جھینگا فارمنگ اور ماہی گیری کی ویلیو چین بہتر بنانے کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔ سمپوزیم میں پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم اور میری ٹائم حکام نے علاقائی سکیورٹی، بدلتے بحری نظام، نئی ٹیکنالوجی، سمندری حکمرانی اور بندرگاہی شعبے کے معاشی کردار پر تبادلہ خیال کیا۔

انشورنس اخراجات میں متوقع کمی پاکستان کی درآمدات اور برآمدات کے لیے مثبت عنصر ہو سکتی ہے، لیکن اس کا حقیقی تجارتی فائدہ اس بات سے طے ہوگا کہ عالمی بیمہ کنندگان اور جہاز رانی کمپنیاں پاکستان سے متعلق خطرے کی نئی درجہ بندی کو اپنی قیمتوں اور معاہدوں میں کتنی جلدی اور کس حد تک منتقل کرتی ہیں۔