واشنگٹن: امریکی فیڈرل ریزرو نے اپنی دو روزہ پالیسی میٹنگ کے بعد بینچ مارک شرح سود 3.75 فیصد سے 4.00 فیصد کی حد میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی نے 10 کے مقابلے میں 2 ووٹوں سے شرح میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کی منظوری دی، جبکہ مرکزی بینک نے کہا کہ امریکی معیشت اب مضبوط رفتار سے بڑھ رہی ہے مگر مہنگائی بدستور بلند ہے۔
فیڈ کے چیئرمین کیون وارش نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کے خیال میں مہنگائی کو 2 فیصد کے ہدف تک واپس لانے کے لیے ضروری نہیں کہ معاشی نمو کو سختی سے دبایا جائے یا بے روزگاری میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ تیسری سہ ماہی کی مجموعی ملکی پیداوار کے اعداد مضبوط سرمایہ کاری اور صارفین کے اخراجات کی عکاسی کریں گے۔
پالیسی بیان میں تاہم یہ اشارہ موجود رہا کہ آئندہ مزید شرح سود میں اضافہ زیر غور آ سکتا ہے۔ فیڈ نے کہا کہ دسمبر کی اگلی میٹنگ تک آنے والے معاشی اعداد مناسب پالیسی موقف کے تعین میں مدد دیں گے۔ موجودہ مہنگائی مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے تقریباً ایک فیصد پوائنٹ اوپر ہے اور حالیہ مہینوں میں قیمتوں کے دباؤ میں محدود کمی دیکھی گئی ہے۔
فیڈ گورنر لیزا کک اور کلیولینڈ فیڈ کی صدر بیتھ ہیمک نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے 25 بیسس پوائنٹس اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔ ان کا مؤقف اس تشویش کی عکاسی کرتا ہے کہ مضبوط صارف اخراجات، توانائی کی بلند قیمتیں اور مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری طلب اور قیمتوں پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔
فیصلے کے بعد امریکی مالیاتی منڈیوں کا ابتدائی ردعمل محدود رہا۔ طویل مدت کے ٹریژری بانڈز کی yields میں اضافہ ہوا جبکہ تاجروں نے قریب مدت میں شرح سود بڑھنے کی توقعات قدرے کم کیں۔ اس کے باوجود مارکیٹ قیمتوں میں دسمبر کی میٹنگ میں شرح بڑھنے کا امکان اب بھی نمایاں ہے۔
یہ فیصلہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے ایک ہفتے سے بھی کم وقت پہلے سامنے آیا ہے، لیکن وارش نے کہا کہ سیاسی عوامل نے شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ فیڈ کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ مضبوط معاشی سرگرمی کو غیر ضروری نقصان پہنچائے بغیر مہنگائی کو پائیدار انداز میں 2 فیصد کے ہدف کی طرف واپس لایا جائے۔ امریکی شرح سود کا راستہ عالمی ڈالر فنانسنگ، بانڈ مارکیٹس، سرمایہ کے بہاؤ اور ابھرتی معیشتوں کے مالی حالات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
