اسلام آباد: حکومت نے ہاؤسنگ، تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ کے لیے مجوزہ اصلاحاتی فریم ورک کے تحت 2035 تک مارگیج فنانس کو مجموعی قومی پیداوار کے 5 فیصد تک بڑھانے کا ہدف پیش کیا ہے، جبکہ اس وقت یہ شرح 0.5 فیصد سے بھی کم بتائی گئی ہے۔ فریم ورک میں سالانہ 3 لاکھ سے 4 لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کی تجویز بھی شامل ہے۔
وزارت منصوبہ بندی کے مطابق یہ تجاویز ’اڑان پاکستان‘ فریم ورک کے تحت آٹھویں نیشنل اکنامک مشن کے اجلاس میں پیش کی گئیں، جس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔ پلاننگ کمیشن کے رکن وقاص انور نے ہاؤسنگ، تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ سے متعلق اصلاحاتی خاکہ پیش کیا۔
تجاویز میں مالی سال 2029 تک زمین کے ریکارڈ، تعمیراتی اجازت ناموں، جائیداد کی قدر کے تعین اور ملکیت کی منتقلی کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے کا تصور شامل ہے۔ اسی طرح تعمیراتی منظوریوں کے لیے ون ونڈو نظام، تصدیق شدہ تعمیراتی مراحل سے منسلک مراعات اور پراپرٹی لین دین میں محفوظ ایسکرو ادائیگیوں کی تجاویز بھی زیر غور لائی گئیں۔
اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 7 لاکھ نئے گھروں کی طلب ہے، جبکہ رسد تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار یونٹس ہے، جس سے سالانہ تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار گھروں کا فرق پیدا ہوتا ہے۔ شہری آبادی 2017 کے تقریباً 7 کروڑ 60 لاکھ سے بڑھ کر 2023 میں تقریباً 9 کروڑ 40 لاکھ بتائی گئی۔ تعمیراتی شعبہ 72 متعلقہ صنعتوں سے منسلک ہے اور پیش کردہ اعداد کے مطابق قومی روزگار میں تقریباً 9.5 فیصد حصہ رکھتا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کے ہدف کی طرف بڑھنے کے لیے معیشت کے تمام شعبوں کو فعال کرنا ہوگا۔ انہوں نے محدود زمین کے بہتر استعمال کے لیے عمودی تعمیرات کی حوصلہ افزائی اور زرعی زمین کو بے قابو افقی شہری پھیلاؤ سے محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں جدید تعمیراتی ٹیکنالوجی، جدت اور زیادہ مؤثر طریقوں کے استعمال پر بھی بات ہوئی۔
یہ اہداف اور اقدامات فی الحال اصلاحاتی فریم ورک میں پیش کی گئی تجاویز ہیں؛ انہیں مکمل شدہ تعمیراتی پروگرام یا منظور شدہ مالی نتائج نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان پر عملی پیش رفت کے لیے مالیاتی اداروں، وفاقی و صوبائی حکومتوں، زمین و تعمیرات سے متعلق اداروں اور نجی شعبے کے درمیان پالیسی اور نفاذ کی سطح پر مزید اقدامات درکار ہوں گے۔

