وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میکرو اکنامک استحکام کو مستحکم کرتے ہوئے معاشی نمو کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کراچی میں دسویں سالانہ مائیکروفنانس کانفرنس سے ورچوئل خطاب میں انہوں نے بتایا کہ ملک کے زرمبادلہ ذخائر چند ہفتے قبل 21.4 ارب ڈالر تک پہنچے، جنہیں انہوں نے تاریخی بلند سطح قرار دیا، اور کہا کہ یہ تقریباً تین ماہ کی درآمدات کیلئے کافی ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال معیشت نے 3.7 فیصد نمو ریکارڈ کی جبکہ رواں مالی سال کیلئے 4 فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت ایسی پائیدار اور ذمہ دار نمو چاہتی ہے جو ماضی کے تیز رفتار توسیع اور پھر اچانک دباؤ کے چکر سے بچ سکے۔ ان کے مطابق نجی شعبے کا معاشی سرگرمی میں کردار مزید بڑھانا بھی حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
اورنگزیب نے مالی خدمات سے محروم یا محدود رسائی رکھنے والے افراد اور برادریوں کیلئے قرض اور دیگر مالی وسائل تک رسائی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بغیر ضمانت فنانسنگ اسکیم کے تحت گزشتہ سات سے آٹھ ماہ میں چھوٹے کسانوں کیلئے تقریباً 6 ارب روپے منظور کیے گئے، جن میں سے 2 ارب روپے سے زیادہ رقم جاری کی جا چکی ہے۔
وزیر خزانہ نے کمرشل بینکوں اور مائیکروفنانس شعبے کے درمیان زیادہ مضبوط تعاون کی ضرورت بیان کی تاکہ چھوٹے و درمیانے کاروبار، زراعت اور کم لاگت ہاؤسنگ کیلئے فنانسنگ میں اضافہ ہو۔ ان کے مطابق ایکسپورٹ ری فنانس کی حد ایک ٹریلین روپے سے بڑھا کر 1.5 ٹریلین روپے کر دی گئی ہے اور اس سہولت کا 20 فیصد ایس ایم ایز کیلئے مختص کیا گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار وزیر خزانہ کے کانفرنس خطاب میں پیش کیے گئے سرکاری مؤقف پر مبنی ہیں۔ شرح نمو کی پیش گوئی مستقبل سے متعلق تخمینہ ہے، حتمی نتیجہ نہیں، اور معاشی کارکردگی عالمی حالات، مالیاتی پالیسی، برآمدات، درآمدی لاگت اور داخلی سرمایہ کاری سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہو سکتی ہے۔ خطاب کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ میکرو اکنامک استحکام کو مالی شمولیت اور نجی شعبے کی سرگرمی میں اضافے کے ساتھ جوڑا جائے۔

