اسلام آباد میں پاکستان ریلوے کی اصلاحات اور مین لائن ون (ایم ایل ون) کی اپ گریڈیشن سے متعلق اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے منصوبے پر کام تیز کرنے اور ادارے میں کارپوریٹ طرز کی اصلاحات متعارف کرانے کی ہدایت کی ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے ایم ایل ون کو مسافروں کیلئے بہتر سفری سہولت، مال برداری میں توسیع اور ریلوے کی جدید کاری کیلئے اہم قرار دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی نشاندہی شدہ قیمتی اراضی کے تجارتی امکانات سے فائدہ اٹھایا جائے اور ایم ایل ون کیلئے مالی وسائل پیدا کرنے میں اسے استعمال کیا جائے۔ اجلاس میں ریلوے کی زمین سے متعلق تجاوزات کی نشاندہی اور واگزاری کیلئے قومی احتساب بیورو اور وزارت ریلوے کی ٹیموں کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ریلوے کی اراضی کے حقیقی تجارتی امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے دو ہفتوں میں ایک جامع منصوبہ پیش کیا جائے۔

سرکاری بریفنگ کے مطابق 1,726 کلومیٹر طویل ایم ایل ون اپ گریڈیشن کو چار بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: کراچی تا روہڑی، روہڑی تا ملتان، ملتان تا لاہور اور لاہور تا پشاور۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی-روہڑی حصے کی اپ گریڈیشن کیلئے بین الاقوامی فنانسنگ استعمال کی جا رہی ہے، جبکہ باقی حصوں کیلئے ملکی وسائل سے مالی انتظام کے منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے ریلوے اراضی پر مختلف تجارتی منصوبوں کے ذریعے بینک فنانسنگ حاصل کرنے کے تصور کی منظوری بھی دی۔ سرکاری بیان کے مطابق مقصد یہ ہے کہ ایم ایل ون کی تعمیر اور اپ گریڈیشن کیلئے ریلوے کے اپنے اثاثوں کی تجارتی قدر کو مالی وسائل میں تبدیل کیا جا سکے۔ تاہم اجلاس کی جاری کردہ تفصیل میں کسی مخصوص بینک، قرض کی حتمی مالیت یا تمام حصوں کیلئے مکمل مالی بندوبست کی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ریلوے کو مالی طور پر خود کفیل بنانا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔ اجلاس میں کراچی-روہڑی سیکشن کی پیش رفت، ایم ایل ون کے مختلف تعمیراتی مراحل اور ریلوے کی ملکیتی اراضی سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وفاقی وزرا، وزیر مملکت، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین نیب اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔