لندن/ٹوکیو: امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ایک روز قبل ریکارڈ سطحوں کے بعد بدھ کو عالمی حصص بازاروں میں عمومی طور پر کمزوری دیکھی گئی، جبکہ سرمایہ کار بلند توانائی قیمتوں، افراط زر کے خطرات، بانڈ ییلڈ اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کی بلند قدر کے بارے میں محتاط رہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یورپ اور ایشیا کے کئی بڑے اشاریوں میں کاروبار کے دوران کمی ریکارڈ کی گئی۔
یورپ میں فرانس کا CAC 40 اور جرمنی کا DAX تقریباً 0.4 فیصد نیچے رہے، جبکہ برطانیہ کا FTSE 100 بھی معمولی کمی کا شکار ہوا۔ ایشیا میں جاپان کا Nikkei 225 تقریباً 0.9 فیصد، جنوبی کوریا کا Kospi 2 فیصد اور ہانگ کانگ کا Hang Seng تقریباً 0.6 فیصد گرا۔ یہ اعداد کاروباری سیشن کے مخصوص مراحل کی عکاسی کرتے ہیں اور دن کے اختتام تک تبدیل ہو سکتے ہیں۔
اس کے برعکس امریکا میں منگل کو بڑی کمپنیوں کے حصص نے مثبت کارکردگی دکھائی تھی۔ S&P 500 تقریباً 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 7,818.93 کی ریکارڈ سطح پر بند ہوا، Dow Jones Industrial Average میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ Nasdaq تقریباً 0.4 فیصد بڑھ کر 27,599.79 کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچا۔ سرمایہ کاروں کی توجہ کارپوریٹ منافع، خصوصاً ٹیکنالوجی اور اے آئی سے متعلق شعبوں کی آمدن پر مرکوز ہے۔
مارکیٹ میں تیزی کے باوجود تجزیہ کار اس سوال پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا اے آئی سے منسلک کمپنیوں کی موجودہ قیمتیں مستقبل کی آمدن کے امکانات سے مطابقت رکھتی ہیں۔ اس کے ساتھ تیل کی بلند قیمتیں کاروباری لاگت اور افراط زر کے خدشات بڑھا سکتی ہیں، جبکہ بلند حکومتی بانڈ ییلڈ حصص کے مقابلے میں فکسڈ انکم اثاثوں کو زیادہ پرکشش بنا سکتی ہے۔
امریکی دس سالہ ٹریژری ییلڈ میں منگل کو کچھ کمی آئی تھی، جس سے مارکیٹ کو محدود سہارا ملا، تاہم مجموعی سطح اب بھی سرمایہ کاروں کے لیے اہم اشارہ ہے۔ عالمی منڈیوں کی موجودہ سمت مختلف عوامل کے امتزاج سے طے ہو رہی ہے: ایک طرف مضبوط کارپوریٹ منافع کی امید ہے اور دوسری جانب توانائی، افراط زر، شرح سود اور جغرافیائی سیاسی خطرات موجود ہیں۔ اسی لیے امریکی ریکارڈ سطحیں فوری طور پر دیگر خطوں میں یکساں تیزی پیدا نہیں کر سکیں۔
