واشنگٹن: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے قرض، بلند مالیاتی اخراجات اور مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار توسیع سے پیدا ہونے والے معاشی خطرات کے مقابلے کے لیے فوری اور متوازن پالیسی اقدامات کریں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جارجیوا نے یہ مؤقف آئندہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاسوں سے قبل پیش کیا، جو بینکاک میں ہونے والے ہیں۔
جارجیوا نے کہا کہ امیر اور کم آمدنی والے دونوں طرح کے ممالک کو بلند شرح سود، بھاری قرضوں اور قرض کی خدمت کے بڑھتے اخراجات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق حکومتوں کو عوامی اخراجات اور نئے قرض لینے کے فیصلوں میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل کے معاشی جھٹکوں کے لیے مالی گنجائش برقرار رہے۔ مشرق وسطیٰ اور یوکرین سے جڑے جغرافیائی سیاسی تنازعات نے توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے ماحول پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔
آئی ایم ایف سربراہ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو معاشی امکانات اور خطرات دونوں کا ذریعہ قرار دیا۔ اے آئی انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سرمایہ کاری نے بعض منڈیوں میں حصص کی قیمتوں کو سہارا دیا ہے، لیکن اگر کمپنیوں کی آمدن سرمایہ کاروں کی بلند توقعات پر پوری نہ اتری تو مالی منڈیوں میں تیز ردعمل پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ انتباہ کسی مخصوص کمپنی کے مستقبل کے نتائج کی پیش گوئی نہیں بلکہ وسیع مالیاتی خطرے کی نشاندہی ہے۔
جارجیوا نے یہ بھی کہا کہ مصنوعی ذہانت کے معاشی فوائد مختلف ممالک اور کارکنوں میں یکساں تقسیم نہیں ہو رہے۔ ان کے مطابق حکومتوں کو اے آئی کے لیے مناسب قواعد، کارکنوں کی تربیت، کاروباری مواقع، نئی مہارتوں اور توانائی کی قابل اعتماد فراہمی پر توجہ دینی چاہیے تاکہ پیداواری صلاحیت میں ممکنہ اضافہ وسیع آبادی تک پہنچ سکے اور ملازمتوں میں تبدیلی سے پیدا ہونے والی مشکلات کم کی جا سکیں۔
آئی ایم ایف کی قیادت کا یہ پیغام ایسے وقت آیا ہے جب دنیا کے کئی ممالک بلند قرض، توانائی کے مہنگے اخراجات اور ٹیکنالوجی میں تیز سرمایہ کاری کے بیک وقت اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جارجیوا کے مطابق پالیسی سازوں کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ وہ مالی استحکام برقرار رکھتے ہوئے نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں اور عدم مساوات و روزگار کے خطرات کو نظرانداز نہ کریں۔
