اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے رضاکارانہ پنشن اسکیم کے فریم ورک میں ’پیسیو ایکویٹی سب فنڈ‘ متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ نئے انتظام کے تحت پنشن فنڈ منیجر یکم جنوری 2027 سے یہ آپشن موجودہ ایکویٹی، ڈیٹ اور منی مارکیٹ سب فنڈز کے ساتھ لازمی طور پر پیش کریں گے، تاکہ طویل مدتی بچت کرنے والوں کو فعال اور انڈیکس پر مبنی سرمایہ کاری میں انتخاب مل سکے۔
ایس ای سی پی کے مطابق پیسیو ایکویٹی سب فنڈ کسی مخصوص مارکیٹ انڈیکس کو براہ راست ٹریک کر سکتا ہے یا پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فہرست شدہ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز یعنی ای ٹی ایف میں سرمایہ کاری کے ذریعے ایکویٹی مارکیٹ کی متنوع نمائش حاصل کر سکتا ہے۔ اس طریقے کا بنیادی مقصد پنشن بچت کرنے والوں کے لیے نسبتاً کم لاگت اور واضح انڈیکس پر مبنی سرمایہ کاری کا راستہ فراہم کرنا ہے۔
ای ٹی ایف پر مبنی پیسیو ایکویٹی سب فنڈ کے لیے مینجمنٹ فیس کی زیادہ سے زیادہ حد سالانہ 0.75 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ اگر کوئی پنشن فنڈ منیجر اپنی ہی اثاثہ جاتی انتظامی کمپنی کے زیر انتظام ای ٹی ایف میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو اسی سرمایہ کاری پر اضافی مینجمنٹ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ اس شق کا مقصد ایک ہی سرمایہ کاری پر فیس کی دو تہیں بننے سے روکنا ہے۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کے مطابق نئی سہولت سے پنشن بچت کرنے والوں کو اپنی ریٹائرمنٹ بچت کے انتظام میں زیادہ انتخاب ملے گا اور اسٹاک مارکیٹ میں شرکت کے لیے نسبتاً کم لاگت راستہ دستیاب ہوگا۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد رضاکارانہ پنشن نظام میں وسیع تر شرکت کی حوصلہ افزائی اور طویل مدتی ریٹائرمنٹ بچت کو مضبوط کرنا ہے۔
پیسیو سرمایہ کاری میں فنڈ منیجر عام طور پر منتخب انڈیکس کی کارکردگی کی پیروی کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاہم اس کا مطلب منافع کی ضمانت نہیں ہوتا۔ ایکویٹی مارکیٹ میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ برقرار رہتا ہے اور پنشن سرمایہ کاروں کے نتائج مارکیٹ کی کارکردگی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ نئی سہولت کا عملی آغاز یکم جنوری 2027 سے ہونا ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کے لیے متعلقہ فنڈ کی دستاویزات، انڈیکس، فیس اور خطرات کو سمجھنا اہم ہوگا۔

