کراچی: پاکستان نے شارک اور ان سے متعلق سمندری انواع کے تحفظ و انتظام کے لیے پہلا قومی ایکشن پلان 2025-2035 تیار کیا ہے، جسے ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر پاکستان نے سمندری حیاتیاتی تنوع اور پائیدار ماہی گیری کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ دس سالہ فریم ورک شارک، ریز، اسکیٹس اور چیمیرا کی آبادیوں میں کمی روکنے اور ماہی گیری کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی فراہم کرتا ہے۔
منصوبے میں نفاذ اور نگرانی مضبوط کرنے، غیر ارادی شکار یعنی بائی کیچ کم کرنے، غیر قانونی طور پر شارک کے پنکھ کاٹنے کی روک تھام، اہم سمندری مساکن کے تحفظ، سائنسی تحقیق اور ڈیٹا مانیٹرنگ بہتر بنانے اور ساحلی آبادیوں کے پائیدار روزگار کی حمایت جیسے مقاصد شامل ہیں۔ اس فریم ورک کی کامیابی کا انحصار وفاقی و صوبائی فشریز اداروں، ماہی گیر برادریوں، سائنس دانوں اور علاقائی و بین الاقوامی شراکت داروں کے مسلسل تعاون پر ہوگا۔
WWF-Pakistan نے 2021 میں رپورٹ ہونے والے اپنے ایک جائزے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پانچ دہائیوں کے دوران شارک کی لینڈنگ میں 85 فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔ تنظیم اور متعلقہ ماہرین نے اس کمی کی بڑی وجوہات میں طویل عرصے سے زیادہ ماہی گیری، جالوں اور کشتیوں کی تعداد میں اضافہ، مخصوص انواع کی محدود نگرانی اور بائی کیچ کو شامل کیا ہے۔ شارک کی کئی اقسام غذائی زنجیر میں اعلیٰ شکاری ہوتی ہیں اور ان کی آبادی شدید کمی کے بعد نسبتاً آہستہ بحال ہوتی ہے۔
WWF-Pakistan کے سینئر ڈائریکٹر بائیو ڈائیورسٹی رب نواز نے کہا کہ قومی پلان ایک دہائی سے زیادہ عرصے کی وکالت، سائنسی تحقیق، فشریز مانیٹرنگ، پالیسی رابطے اور ماہی گیر برادریوں کے ساتھ تعاون کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق اصل کامیابی کا معیار دستاویز کا اجرا نہیں بلکہ مضبوط نفاذ، قابل اعتماد سائنسی نگرانی، خطرے سے دوچار انواع اور اہم مساکن کا تحفظ اور ماہی گیر برادریوں کی بامعنی شرکت ہوگی۔
تنظیم نے اپنے کریو بیسڈ آبزرور پروگرام کے ذریعے کشتیوں کے عملے اور کپتانوں کو ڈیٹا جمع کرنے، رپورٹنگ، انواع کی شناخت اور حساس سمندری جانوروں کو محفوظ طریقے سے چھوڑنے کی تربیت دینے کا بھی ذکر کیا۔ خاص طور پر ٹونا گل نیٹس میں اتفاقی طور پر پھنسنے والی وہیل شارک کو محفوظ چھوڑنے اور مانٹا و ڈیول ریز کے ساتھ تعاملات کا ریکارڈ رکھنے پر کام کیا گیا ہے۔ قومی پلان اب ایک پالیسی فریم ورک فراہم کرتا ہے، لیکن قابل پیمائش نتائج کے لیے مستقل فنڈنگ، نفاذ اور شفاف ڈیٹا ضروری ہوں گے۔




