لاہور: پنجاب حکومت نے اکتوبر سے جنوری کے شدید سموگ سیزن سے پہلے فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع کے خلاف ’پری سموگ کریک ڈاؤن‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی اداروں کو تعمیراتی دھول، خشک جھاڑو، فصلوں کی باقیات جلانے، اینٹوں کے بھٹوں، کھلے عام کچرا جلانے اور گاڑیوں کے دھوئیں کے خلاف ضابطوں پر سختی سے عمل کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پنجاب انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے متعلقہ محکموں، بلدیاتی اداروں اور ترقیاتی ایجنسیوں سے کہا ہے کہ معمول کی سرگرمیوں سے فضا میں ذرات کی مقدار بڑھنے سے روکا جائے۔ ای پی اے کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ نیئر شیخ نے ستھرا پنجاب اتھارٹی کو خشک جھاڑو کا طریقہ ترک کرکے مکینیکل یا گیلی صفائی اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ادارے کے مطابق خشک جھاڑو سڑک پر موجود گرد کو دوبارہ فضا میں پھیلاتا ہے، جس سے بالخصوص مصروف شاہراہوں پر PM10 اور PM2.5 ذرات بڑھ سکتے ہیں۔
ای پی اے نے سڑک کنارے کچرے، پتوں اور دیگر ٹھوس فضلے کو کھلے عام جلانے پر پابندی کے نفاذ اور ایسے مقامات کی باقاعدہ نگرانی کا بھی کہا ہے۔ صوبائی سموگ قواعد 2023 کے تحت کھلے عام ٹھوس کچرا جلانا ممنوع ہے۔ تعمیراتی منصوبوں کے لیے پانی کا چھڑکاؤ، تعمیراتی مواد لے جانے والی گاڑیوں کو ڈھانپنا اور گرد روکنے والی رکاوٹیں نصب کرنا مقررہ اقدامات میں شامل ہیں۔
ادارے نے نشاندہی کی کہ لاہور میں بعض جاری ترقیاتی منصوبوں پر 2025 میں جاری کیے گئے گرد کنٹرول کے معیاری طریقہ کار پر مناسب عمل نہیں ہو رہا تھا۔ اسی لیے تجویز دی گئی ہے کہ ماحولیاتی ضابطوں کی پابندی کو منصوبوں کی منظوری اور عمل درآمد کی شرائط کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے فصلوں کی باقیات کو جدید مشینری سے ٹھکانے لگانے اور انہیں جلانے سے روکنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
بھٹوں میں زگ زیگ ٹیکنالوجی کی نگرانی، دھواں خارج کرنے والے ریستورانوں اور باربی کیو مقامات کی جانچ اور لاہور میں داخل ہونے والی بھاری و ہلکی گاڑیوں کے اخراج کی پڑتال بڑھانے کا بھی کہا گیا ہے۔ حکام کے مطابق سیف سٹی کیمروں، تھرمل امیجنگ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظاموں کو خلاف ورزیوں کی نگرانی میں زیادہ استعمال کیا جائے گا۔ یہ اقدامات سموگ پیدا ہونے کے بعد ہنگامی ردعمل کے بجائے آلودگی کے ذرائع کو پہلے سے محدود کرنے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔




