وزیراعظم شہباز شریف نے قومی یوتھ روزگار پالیسی پر عمل درآمد کی پیش رفت کا ہر ماہ جائزہ لینے اور نوجوانوں، خصوصاً خواتین، کو نئی ملازمتوں کے لیے مطلوبہ مہارتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام آباد میں پالیسی کے روڈمیپ پر ہونے والے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ باعزت روزگار تک رسائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے وزارتوں اور متعلقہ اداروں کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔

اجلاس میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت بھی سامنے آئی۔ اس توجہ کا عملی مطلب صرف تربیتی نشستوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ ان علاقوں میں دستیاب کام، صنعتوں کی طلب، تربیتی مراکز تک رسائی اور تربیت مکمل کرنے کے بعد ملازمت حاصل کرنے کے نتائج کو الگ الگ ناپنا ہوگا۔ پالیسی کی کامیابی اسی وقت واضح ہوگی جب سرکاری جائزوں میں اندراج کے ساتھ تکمیل، سرٹیفکیشن اور روزگار کے اعداد بھی سامنے آئیں۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن، نیوٹیک، اور سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی، سمیڈا، میں ادارہ جاتی اصلاحات کی گئی ہیں تاکہ تربیت کو پاکستان اور بیرون ملک کاروباری و صنعتی طلب کے مطابق بنایا جا سکے۔ بیرون ملک روزگار کے لیے بین الاقوامی سرٹیفکیشن اور مطلوبہ زبانوں میں مہارت پر بھی خصوصی اقدامات جاری ہونے کی اطلاع دی گئی۔

مارکیٹ سے جڑی تربیت کے لیے نصاب اور آجر کی ضرورت کے درمیان مسلسل رابطہ ضروری ہے۔ صنعتیں جب اپنی مطلوبہ تکنیکی صلاحیت، حفاظتی معیار اور عملی تجربے کی وضاحت کریں گی تو تربیتی ادارے کورس بروقت تبدیل کر سکیں گے۔ دوسری طرف بین الاقوامی سرٹیفکیشن کی افادیت اس وقت بڑھے گی جب وہ ہدف ملک اور شعبے میں واقعی تسلیم شدہ ہو اور امیدوار کو بھرتی کے عمل تک واضح راستہ ملے۔

اجلاس میں ڈیجیٹل یوتھ ہب کو ملک کے اندر اور بیرون ملک روزگار کی معلومات کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا گیا۔ تعلیمی اداروں میں یوتھ ڈیولپمنٹ سیلز قائم کرنے کی پیش رفت بھی بتائی گئی، جن کا کام نوجوانوں کو کیریئر رہنمائی، مہارتوں کے مواقع اور دستیاب پروگراموں کے بارے میں معلومات دینا ہے۔ وزیراعظم نے پالیسی کے فوائد سے متعلق آگاہی مہم شروع کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ اہل نوجوان معلومات نہ ملنے کی وجہ سے مواقع سے محروم نہ رہیں۔

خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے تربیتی مقام، اوقات، محفوظ آمدورفت، ڈیجیٹل رسائی اور خاندانوں کے عملی حالات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ اسی طرح دور دراز اضلاع میں صرف آن لائن معلومات کافی نہیں ہوں گی؛ مقامی تعلیمی اداروں، روزگار مراکز اور کاروباری تنظیموں کے ذریعے درخواست، تربیت اور ملازمت تک مدد درکار ہوگی۔

یہ اجلاس پالیسی پر عمل درآمد کی انتظامی سمت طے کرتا ہے، مگر نئی ملازمتوں کی کوئی مخصوص تعداد یا حتمی مدت جاری نہیں کی گئی۔ آئندہ ماہانہ جائزوں میں اگر علاقہ، صنف، تربیتی شعبہ، سرٹیفکیشن اور روزگار کے نتائج شائع کیے جائیں تو عوام اور صنعت دونوں یہ جان سکیں گے کہ پالیسی ہنرمندی کو حقیقی اور پائیدار روزگار میں کس حد تک بدل رہی ہے۔