اسلام آباد: پاکستان میں پانچویں نسل کی موبائل ٹیکنالوجی، 5G، کا ملک گیر رول آؤٹ مکمل ہونے میں تقریباً دو مزید سال لگنے کا امکان ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ نئی سروس کا پھیلاؤ مرحلہ وار ہوگا اور ابتدائی دستیابی کے بعد آپریٹرز کو نیٹ ورک، ریڈیو آلات، فائبر بیک ہال اور دیگر بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی تاکہ کوریج بڑے شہروں سے آگے بڑھ سکے۔
5G صرف زیادہ موبائل انٹرنیٹ رفتار کا نام نہیں بلکہ کم تاخیر، زیادہ نیٹ ورک گنجائش اور بڑی تعداد میں منسلک آلات کو سنبھالنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتا ہے۔ تاہم اس کے لیے مناسب اسپیکٹرم کے ساتھ کثافت سے نصب نیٹ ورک، فائبر کنیکٹیویٹی اور صارفین کے پاس مطابقت رکھنے والے آلات ضروری ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ملک میں اسپیکٹرم دستیاب ہونے کے فوراً بعد ہر علاقے میں یکساں کوریج قائم نہیں ہوتی۔
پاکستانی ٹیلی کام شعبہ حالیہ برسوں میں ڈیٹا استعمال میں تیز اضافے کے باوجود فی صارف آمدن، توانائی لاگت، روپے کی قدر اور درآمدی نیٹ ورک آلات کی قیمت جیسے دباؤ کا سامنا کرتا رہا ہے۔ 5G میں سرمایہ کاری کے لیے آپریٹرز کو نئے اسپیکٹرم کے علاوہ موجودہ سائٹس کی اپ گریڈیشن اور نئی سائٹس کی تعمیر پر بھی سرمایہ لگانا ہوگا۔ کوریج کی رفتار اس کاروباری ماحول اور ریگولیٹری شرائط سے متاثر ہوسکتی ہے۔
ملک گیر رول آؤٹ کی دو سالہ مدت کو ایک متوقع ٹائم لائن سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ ہر شہر اور دیہی علاقے کے لیے ایک ہی تاریخ۔ عام طور پر آپریٹرز زیادہ ڈیٹا طلب والے شہری مراکز سے آغاز کرتے ہیں اور بعد میں نیٹ ورک کو دوسرے علاقوں تک پھیلاتے ہیں۔ صارفین کے لیے حقیقی تجربہ دستیاب اسپیکٹرم، فون کی صلاحیت، نیٹ ورک لوڈ اور مقامی سائٹ کوریج کے مطابق مختلف ہوگا۔
5G کی توسیع پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، کلاؤڈ خدمات، صنعتی آٹومیشن، آن لائن تعلیم اور جدید کاروباری ایپلی کیشنز کے لیے نئی گنجائش پیدا کرسکتی ہے، لیکن اس کے فوائد اسی وقت وسیع پیمانے پر سامنے آئیں گے جب کوریج قابل اعتماد، قیمت قابل برداشت اور فائبر سمیت بنیادی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مناسب ہو۔ آنے والے مرحلے میں اسپیکٹرم پالیسی، آپریٹرز کی سرمایہ کاری اور کوریج اہداف اس ٹائم لائن کے اہم عوامل ہوں گے۔

