پشاور: واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، واپڈا، اور اسپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن، ایس سی او، نے داسو اور چلاس میں سیف سٹی منصوبوں کے قیام کے لیے معاہدہ کیا ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد اہم ترقیاتی مقامات اور ان سے منسلک شہری و مواصلاتی علاقوں میں جدید نگرانی، رابطہ کاری اور سکیورٹی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا ہے۔

داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور چلاس کے گرد متعدد بڑے توانائی و بنیادی ڈھانچے کے منصوبے جاری ہیں، جہاں پاکستانی عملے کے ساتھ غیر ملکی ماہرین اور کارکن بھی کام کرتے ہیں۔ ایسے منصوبوں کے لیے مؤثر مواصلات، نگرانی اور ہنگامی ردعمل کا مربوط نظام سکیورٹی انتظامات کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ سیف سٹی ٹیکنالوجی عموماً کیمروں، کمانڈ و کنٹرول نظام، ڈیٹا رابطوں اور مختلف اداروں کے درمیان فوری معلومات کے تبادلے کو یکجا کرتی ہے۔

ایس سی او شمالی اور دشوار گزار علاقوں میں ٹیلی کمیونیکیشن اور ڈیجیٹل رابطہ خدمات فراہم کرنے کا تجربہ رکھتی ہے، جبکہ واپڈا داسو سمیت بڑے آبی و بجلی منصوبوں کی تعمیر اور انتظام کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ دونوں اداروں کا تعاون سکیورٹی نگرانی کو ان علاقوں کے مواصلاتی ڈھانچے کے ساتھ جوڑنے کی کوشش ہے جہاں جغرافیائی حالات کے باعث روایتی نیٹ ورک اور فوری ردعمل میں عملی مشکلات ہوسکتی ہیں۔

معاہدے کے بعد اصل پیش رفت نظام کی تنصیب، کمانڈ مراکز کی فعالیت، متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے اور فیلڈ سطح پر استعمال سے سامنے آئے گی۔ صرف کیمرے نصب کرنا سیف سٹی نظام کی مکمل کامیابی نہیں ہوتا؛ قابل اعتماد بجلی، نیٹ ورک دستیابی، تربیت یافتہ آپریٹرز، دیکھ بھال اور واضح ردعمل پروٹوکول بھی ضروری ہوتے ہیں۔

حکام نے ان منصوبوں کو داسو اور چلاس کے اہم علاقوں میں سکیورٹی صلاحیت مضبوط کرنے کے وسیع انتظامات کا حصہ قرار دیا ہے۔ منصوبوں کی حتمی لاگت، تمام تکنیکی اجزا اور تکمیل کی مکمل ٹائم لائن سے متعلق مزید تفصیلات مرحلہ وار سامنے آسکتی ہیں۔ عملی نفاذ مکمل ہونے کے بعد یہ دیکھا جاسکے گا کہ نگرانی اور مواصلاتی نظام بڑے ترقیاتی منصوبوں، مقامی آبادی اور نقل و حرکت کی حفاظت میں کس حد تک مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔