پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین اور پی این ایس یرموک نے بحیرہ عرب میں مشترکہ انسداد منشیات کارروائی کے دوران 2,800 کلوگرام سے زیادہ منشیات ضبط کی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ضبط شدہ منشیات کی تخمینی مالیت تقریباً 750 ملین امریکی ڈالر ہے۔ دونوں بحری جہاز معمول کی گشت پر تھے جب انہوں نے ایک مشکوک کشتی کو روکا اور بورڈنگ آپریشن کے دوران کشتی کے خفیہ خانوں سے منشیات برآمد کیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق کارروائی بحری سلامتی کے جاری آپریشنز کے دائرے میں کی گئی۔ دستیاب سرکاری بیان میں منشیات کی مخصوص قسم، کشتی پر موجود افراد کی شناخت، کشتی کی رجسٹریشن یا اس کے روانگی اور ممکنہ منزل کے بارے میں تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی لیے ضبطی کی مقدار اور مالیت کو سرکاری بیان سے منسوب کیا جا رہا ہے، جبکہ اسمگلنگ نیٹ ورک یا کسی مخصوص ملک یا گروہ سے تعلق کے بارے میں غیر مصدقہ قیاس شامل نہیں کیا گیا۔

چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کارروائی میں شریک افسران اور عملے کی پیشہ ورانہ مہارت اور چوکس نگرانی کو سراہا۔ بحریہ کے مطابق فورس سمندری سلامتی برقرار رکھنے اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی الگ الگ بیانات میں بحریہ کی کارروائی کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے منشیات کی اسمگلنگ روکنے میں بحریہ کے کردار کو سراہا، جبکہ صدر نے سمندری حدود اور بحری راستوں کے تحفظ میں اس کے کردار کا ذکر کیا۔

یہ کارروائی سمندر کے راستے غیر قانونی تجارت اور منشیات کی نقل و حرکت کے خلاف پاکستان کی بحری نگرانی کا حصہ ہے۔ ضبط شدہ مواد کی بین الاقوامی منڈی میں مالیت 750 ملین ڈالر بتائی گئی ہے، تاہم ایسی تخمینی مالیت منشیات کی قسم، خالص پن اور مختلف منڈیوں میں قیمت کے مطابق بدل سکتی ہے۔ سرکاری بیان میں اس تخمینے کے حساب کا طریقہ الگ سے بیان نہیں کیا گیا۔ کارروائی کی بنیادی طور پر تصدیق آئی ایس پی آر کے بیان سے ہوئی، جسے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی، ریڈیو پاکستان اور متعدد پاکستانی نیوز رومز نے رپورٹ کیا۔