اسلام آباد: پاکستان میں رواں سال وائلڈ پولیو وائرس کا نواں کیس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے رپورٹ ہوا ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر اور پولیو کے خاتمے سے متعلق حکام کے مطابق متاثرہ بچہ سات ماہ کا ہے اور اس کا تعلق تحصیل باڑہ کی مستک یونین کونسل سے ہے۔ لیبارٹری تصدیق کے بعد یہ ضلع خیبر میں 2026 کا تیسرا جبکہ خیبر پختونخوا میں ساتواں رپورٹ شدہ کیس بن گیا ہے۔

حکام کے مطابق ضلع خیبر میں سامنے آنے والے تینوں کیسز میں پائے گئے وائرس کا جینیاتی تعلق افغانستان میں گردش کرنے والے پولیو وائرس سے سامنے آیا ہے۔ افغانستان میں بھی رواں سال متعدد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اس لیے سرحد کے دونوں جانب آبادی کی نقل و حرکت اور وائرس کی ترسیل کو روکنے کے لیے مربوط ویکسینیشن کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ جینیاتی تعلق وبائی نگرانی کے نتائج کی نشاندہی کرتا ہے اور اس سے کسی فرد یا خاندان کے سفر کے بارے میں ازخود کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

رواں سال پاکستان کے نو کیسز میں سات خیبر پختونخوا اور دو سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں اور یہ بچوں میں مستقل فالج کا سبب بن سکتی ہے، تاہم ویکسین کے بار بار استعمال سے اس سے تحفظ ممکن ہے۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہیں جہاں وائلڈ پولیو وائرس کی مقامی ترسیل مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔

تازہ کیس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی اور صوبائی حکام کے درمیان مزید مربوط حکمت عملی کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے متعلقہ وفاقی وزرا، صحت حکام اور پولیو ٹیم کے ارکان کو صوبوں سے مشاورت کرکے ایک ہفتے کے اندر مشترکہ ایکشن پلان تیار کرنے کو کہا۔ حکام نے معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری بہتر بنانے، زیادہ خطرے والے علاقوں میں رسائی بڑھانے اور فرنٹ لائن پولیو ورکرز کی سکیورٹی مضبوط رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔